عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک حکمراں جماعت کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں بیرونی مداخلت سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور خطہ ایک نئے بحران کی طرف جاسکتا ہے۔
ترک حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر سلیک نے انقرہ میں صدر رجب طیب اردگان کی زیرِ صدارت پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ترکیہ ایران میں کسی بھی قسم کی افراتفری یا بیرونی مداخلت کا حامی نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران ایک اہم ہمسایہ ملک ہے اور وہاں عدم استحکام کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ایران کے اندر کسی بھی نوعیت کی کارروائی، سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
ترک حکمراں جماعت کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایسے حالات میں سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت ہے نہ کہ طاقت کے استعمال کی۔
ترک حکومت نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ بات چیت، سیاسی حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے، جبکہ فوجی یا خفیہ مداخلتیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
خیال رہے کہ ترکیہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے حوالے سے امریکا اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور ممکنہ اقدامات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔