اسلام آباد پر دھاوے کی تیاری، اس بار مستقل حل نکالیں گے’: محسن نقوی کا پی ٹی آئی کو انتباہ
اسلام آباد میں متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے وفاقی اور اپوزیشن قیادت کے درمیان سیاسی تناؤ انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے، جہاں ایک طرف حکومت نے مظاہرین سے سخت نمٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف اپوزیشن نے گرفتاریوں اور حکومتی اقدامات کو ملک میں قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا اور کہا کہ اسلام آباد پر دھاوے کی تیاری ہو رہی ہے اور یہ لوگ معیشت، عوام اور اپنا نقصان کریں گے۔ انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے اس صورتحال میں نہ جائیں اور اس بند گلی میں نہ جائیں جہاں سے واپسی کا راستہ نہ ہو۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں اور کوہاٹ کی مسجد میں دھماکا ہوا ہے لیکن یہ لوگ اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ جنازوں میں بھی نہیں جاتے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی لیڈرشپ میں بیشتر افراد لانگ مارچ نہیں کرنا چاہتے اور ان ڈراموں سے کوئی چیز حاصل نہیں کی جا سکتی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے محسن نقوی نے کہا کہ اگر چیک اپ کا مطالبہ تھا تو وہ کل رات بھی اسپتال میں ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی کا علاج قانون کے مطابق ہوگا ان کی مرضی سے نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اس بار بھرپور کردار ادا کرے گی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر من و عن عمل کراتے ہوئے اس بار بار احتجاج کا مستقل حل نکالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو سومناتھ بنانے کی بھڑکیں مارنے والوں کو مارنے دیں۔
اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اللہ نے چاہا اور عوام کی مرضی ہوئی تو صوبے ضرور بنیں گے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ اور پارلیمنٹیرینز گرفتار ہو رہے ہیں۔ جن کے ہاتھ میں اختیارات اور طاقت ہے وہ ایک مرتبہ حالات پر نظر کریں، کیونکہ ایم این ایز، ایم پی ایز اور ان کے خاندانوں کی گرفتاریوں سے حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور تحریکِ انصاف کے پانچ اراکین اسمبلی کو اسلام آباد کے ریڈ زون سے تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ ملک کو مزید تصادم کی نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے اور ہم صرف انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
اسی دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں حکومتی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کالا اور جنگل کا قانون چل رہا ہے جہاں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو بھی گھر سے اٹھا لیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ آپ پاکستان کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں اور واضح کیا کہ 27 ستمبر کو ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔