پی ٹی آئی احتجاج: کنٹینرز اور خندقوں سے راستے بند، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں ہائی الرٹ
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ’بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی‘ کے لیے اعلان کردہ لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک سے قبل اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ وفاقی انتظامیہ نے اسلام آباد کے ریڈ زون، ڈی چوک اور شہر کے تمام اہم داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا ہے، جبکہ اٹک اور ہارون برج جیسے خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے سرحدی راستوں پر بھی سخت رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں پولیس، رینجرز اور فرنٹیر کور کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان میٹرو بس سروس سمیت عوامی ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پشاور میں بھی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور گورنر ہاؤس کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں جس سے سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کی آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
حکومتی حکمت عملی کے تحت اسلام آباد پر کسی بھی قسم کے احتجاجی قافلے کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے شاہراہوں، موٹر وے، جی ٹی روڈ، 26 نمبر چونگی اور مارگلہ ٹیکسلا کے قریب خندقیں کھودنے اور مورچے بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ریڈ زون میں رکھے گئے کنٹینرز کو وزنی بنانے کے لیے درجنوں مزدوروں کی مدد سے مٹی کی بوریوں سے بھرا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پولیس نے 3 ایم پی او کے تحت تحریک انصاف کے مقامی قانون سازوں، کارکنوں اور رہنماؤں کے اہلخانہ کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں بغیر اجازت دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ حکومت عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرے گی اور کسی بھی سیاسی جماعت کو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے یا عوام کا راستہ روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس صورتحال پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کا مارچ مکمل طور پر پرامن اور سیاسی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد کرنا ہے اور ہم کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے۔
انہوں نے اراکینِ پارلیمان اور رہنماؤں کی بہنوں، بشمول عظمیٰ بی بی اور نورین بی بی، کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ اور اراکین پارلیمان گرفتار کیے جا رہے ہیں، جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے وہ ایک مرتبہ حالات پر نظر کریں، اس وقت ایم این ایز، ایم پی ایز اور اہلخانہ کی گرفتاریوں سے حالات کشیدہ ہوں گے کیونکہ ملک کو اس وقت مزید تصادم نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال اور طبی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتالوں پمز اور پولی کلینک میں 30 ستمبر 2026ء تک ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دونوں اسپتالوں کے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں محدود کر دی گئی ہیں اور انہیں 24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پمز میں 20 مخصوص ایمرجنسی بیڈز، آئی سی یو اور ٹراما سینٹر کو الرٹ رکھا گیا ہے، جبکہ پولی کلینک میں 100 بلڈ بیگز اور ایمرجنسی وارڈز کو مکمل طور پر تیار رکھنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر شرجیل ظہیر اور ڈاکٹر تنویر ملک کو بالترتیب فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ طبی امداد کی فراہمی میں کوئی تعطل پیش نہ آئے۔