اسرائیلی حکمران طبقہ یہود کے لیے خطرہ

کچھ عرصہ قبل سڈنی کے ساحل پر منعقدہ یہود کی ایک مذہبی تقریب میں پہنچ کرمسلمان باپ بیٹے نے پندرہ افراد گولیاں مارتے مار ڈالے۔مرنے والے شہری اور غیرمسلح تھے اور ان کے قتل کی مذمت ہونی چاہیے۔ مگر خصوصاً مغربی میڈیا میں بہت کم دانشوروں نے اس سچائی کو آشکارا کیا کہ ان یہود کے قتل کا ذمے دار بڑی حد تک اسرائیلی حکمران طبقہ بھی ہے جو پچھلی ایک صدی سے اہل فلسطین پر ظلم وستم ڈھا رہا ہے۔ اب تو وہ ہر فلسطینی مسلمان کو اپنا دشمن اور واجب القتل سمجھتا ہے۔ اسی لیے غزہ کی حالیہ جنگ میں اسرائیلی فوج نے ہزارہا فلسطینی بچے، خواتین اور بوڑھے بھی شہید کر ڈالے۔

ظاہر ہے ، اسرائیلی حکمران طبقے کا یہ ظلم دیکھ کر عالم اسلام میں ہر کوئی خاموش نہیں رہ سکتا۔یہ عیاں ہے کہ آسٹریلیا میں مقیم باپ بیٹے اہل فلسطین پر ہوتے ستم دیکھ کر خود پہ قابو نہیں رکھ سکے اور انھوں نے ادلے کا بدلہ کے مترادف ساحل سمندر پر پہنچ یہود مار ڈالے۔اسرائیلی حکمران طبقے کے مانند وہ بھی ہر یہودی کو اپنا ٹارگٹ سمجھ بیٹھے تھے۔ یہودی قتل ہونے پر اسرائیلی وزیراعظم، بنجمن نیتین یاہو رونے پیٹنے لگا اور اس نے آسٹریلوی حکومت کو حملہ نہ روکنے پر معتوب قرار دیا۔ آسٹریلیا اور مغرب میں اسرائیل نوازی کی انتہا ہے کہ کسی ذمے دار کو یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ سڈنی کے بے گناہ یہود کے قتل میں اسرائیلی حکمران طبقے کا بھی تو اہم کردار ہے۔

امریکی دانشور کا چشم کشا مضمون

تھامس لورین فریڈمین امریکی سیاسی مبصر اور مصنف ہیں۔ تین بار پلٹزر پرائز (Pulitzer Prize) جیت چکے اور نیویارک ٹائمز کے ہفتہ وار کالم نگار ہیں۔ انہوں نے خارجہ امور، عالمی تجارت، مشرق وسطیٰ، عالمگیریت (globalization) اور ماحولیاتی مسائل پر بڑے پیمانے پر لکھا ہے۔10 جون 2025ء کو ان کی تحریر’’یہ اسرائیلی حکومت ہر جگہ یہود کے لیے خطرہ بن چکی‘‘ (This Israeli Government Is a Danger to Jews Everywhere) نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی۔اس تحریر کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں جو ایک مغربی مصنف کی وساطت سے اسرائیلی حکمران طبقے کی کوتاہیاں اور مظالم کسی حد تک عیاں کرتے ہیں:

اسرائیلیوں، بیرونِ ملک یہودی برادری (ڈایاسپورا) اور دنیا بھر میں اسرائیل کے دوستوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج غزہ میں جس انداز سے اسرائیل جنگ لڑ رہا ہے، وہ اس بات کی بنیاد رکھ رہا ہے کہ دنیا بھر میں اسرائیل اور یہودیوں کو کس نظر سے دیکھا جائے گا—اور یہ تبدیلی بنیادی نوعیت کی ہوگی۔

یہ تبدیلی اچھی نہیں ہوگی۔ عبادت خانوں اور یہودی اداروں پر پولیس گاڑیاں اور نجی سکیورٹی آہستہ آہستہ معمول بن جائیں گی۔ اسرائیل جو یہودیوں کے لیے یہود دشمنی سے پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا، خود اس کے پیدا ہونے کا ایک نیا محرک سمجھا جائے گا۔ اور ہوش مند اسرائیلی اپنے ہم مذہب لوگوں کو اسرائیل آنے کی دعوت دینے کے بجائے آسٹریلیا اور امریکا ہجرت کرنے کے لیے قطار میں لگ جائیں گے۔یہ ڈسٹوپیائی مستقبل ابھی پوری طرح نہیں آیا لیکن اگر آپ اس کے خدوخال بنتے نہیں دیکھ رہے تو آپ خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔

خوش آئند بات یہ کہ اسرائیلی فضائیہ کے زیادہ سے زیادہ ریٹائرڈ اور ریزرو پائلٹس، نیز فوج اور سکیورٹی کے ریٹائرڈ افسران اس اْبھرتے طوفان کو دیکھ اور اعلان کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی غزہ میں اختیار کی گئی بدصورت اور لاحاصل (نہلسٹک) پالیسی پر خاموش یا شریک نہیں رہیں گے۔ انہوں نے امریکا اور دیگر مقامات کے یہودیوں سے آواز بلند کرنے کی اپیل شروع کر دی ہے—ایس او ایس: (ہماری کشتی بچاؤ)—اس سے پہلے کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کا پھیلتا ہوا اخلاقی داغ ناقابلِ واپسی ہو جائے۔

سب سے پہلے پس منظر: اسرائیل نے کئی ماہ پہلے حماس کو بطور ایک وجودی فوجی خطرے تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد نیتن یاہو حکومت کو ٹرمپ انتظامیہ اور عرب ثالثوں کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ وہ مرحلہ وار غزہ سے انخلا کے لیے تیار ہے اور اس کی جگہ ایک بین الاقوامی/عرب/فلسطینی اتھارٹی پر مشتمل امن دستہ تعینات کیا جائے،بشرط حماس کی قیادت تمام باقی زندہ اور ہلاک شدہ یرغمالی واپس کرے اور پٹی چھوڑ دے۔

 اس کے برعکس اسرائیل نیتن یاہو کے اس عہد پر عمل کرتا ہے کہ یہ جنگ غیر معینہ مدت تک جاری رکھی جائے—ہر آخری حماس کارکن کے خلاف’’مکمل فتح‘‘ حاصل کرنے کی کوشش کے نام پر، اور انتہائی دائیں بازو کے اس خواب کے ساتھ کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر وہاں اسرائیلی آباد کیے جائیںتو دنیا بھر کے یہودی خود کو، اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو ایک ایسی حقیقت کے لیے تیار کر لیں جسے انہوں نے کبھی نہیں جانا: ایک ایسی دنیا میں یہودی ہونا جہاں یہودی ریاست ایک مطعون ریاست سمجھی جائے—فخر کا نہیں بلکہ شرمندگی کا باعث۔کیونکہ ایک دن غیر ملکی فوٹوگرافروں اور صحافیوں کو اسرائیلی فوج کی نگرانی کے بغیر غزہ جانے کی اجازت ملے گی۔ اور جب وہ جائیں گے اور وہاں تباہی کی پوری ہولناکی سب پر عیاں ہو گی، تو اسرائیل اور دنیا بھر کے یہودیوں کے خلاف ردِعمل گہرا اور شدید ہو سکتا ہے۔

 اسرائیل کو دی گئی میری یہ تنبیہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے کیے گئے عمل پرکسی ہمدردی سے نہ جوڑیے۔ حماس نے اسرائیلی ردِعمل کو خود دعوت دی۔لیکن ایک یہودی کے طور پر، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ یہودی عوام کو اپنے بائبلی وطن میں ایک محفوظ ریاست میں جینے کا حق ہے—ایک محفوظ فلسطینی ریاست کے ساتھ ساتھ— میری توجہ اس وقت اپنی ہی برادری پر مرکوز ہے۔ اور اگر میری برادری غزہ میں اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں عام شہریوں کے قتل پر سراسر بے حسی کے خلاف مزاحمت نہیں کرتی—اور اندرونِ ملک اسرائیل کو آمرانہ رخ پر ڈالنے کی اس کی کوشش کے خلاف بھی، جس کے تحت وہ آزاد اٹارنی جنرل کو برطرف کرنا چاہتی ہے—تو دنیا بھر کے یہودیوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

میری بات ہی پر مت جائیے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائیہ کے دو معزز سابق پائلٹس، بریگیڈیئر جنرل اساف اگمون اور کرنل یوری آراد (جو اکتوبر 1973ء جنگ کے دوران مصر میں جنگی قیدی رہے)، نے عبرانی میں اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ میں ایک کھلا خط شائع کیا جو فضائیہ میں اب بھی خدمات انجام دینے والے اپنے ساتھیوں کے نام تھا۔ دونوں حضرات ’’فورم 555 پیٹریاٹس‘‘ کے رکن ہیں—تقریباً 1700 اسرائیلی فضائیہ کے پائلٹس پر مشتمل ایک متاثر کن گروہ جن میں کچھ ریٹائرڈ اور کچھ ریزرو میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔یہ ابتدا میں نیتن یاہو کی جانب سے عدالتی بغاوت کے ذریعے اسرائیلی جمہوریت کمزور کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کے لیے قائم ہوا تھا۔

فورم 555 کے ایک رہنما، اسرائیلی فضائیہ کے ریٹائرڈ ہیلی کاپٹر پائلٹ، گائے پوران نے مجھے اگمون اور آراد کا خط بھیجا تاکہ دیکھا جا سکے، کیا میں اسے ٹائمز کے اوپینین سیکشن میں مہمان مضمون کے طور پر شائع کروا سکتا ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں خود اس کا ایک اقتباس شائع کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے لکھا:

’’ ہمارا ماننا ہے کہ جنگ پوری طرح جائز تھی۔ … تاہم جیسے جیسے غزہ میں جنگ طول پکڑتی گئی، یہ واضح ہوتا گیا کہ وہ اپنے اسٹریٹجک اور سکیورٹی مقاصد کھوتی جا رہی ہے اور اس کے بجائے بنیادی طور پر (اسرائیلی)حکومت کے سیاسی اور ذاتی مفادات کی خدمت کر رہی ہے۔ یوں یہ ایک واضح طور پر غیر اخلاقی جنگ بن گئی اور بڑھتے ہوئے انداز میں انتقام کی جنگ نظر آنے لگی۔ …

’’اسرائیلی فضائیہ ان لوگوں کے لیے ایک آلہ بن چکی ہے—حکومت میں بھی اور حتیٰ کہ فوج میں بھی—جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غزہ میں کوئی معصوم لوگ نہیں ہیں۔ حال ہی میں کنیسٹ کے ایک رکن نے یہاں تک فخر سے کہا کہ حکومت کی ایک کامیابی یہ ہے کہ وہ غزہ میں روزانہ 100 افراد قتل کر سکتی ہے— اور کوئی چونکتا تک نہیں۔

’’ ایسی باتوں کے جواب میں ہم کہتے ہیں: 7 اکتوبر کا قتلِ عام جتنا بھی ہولناک تھا، وہ اخلاقی تقاضوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے یا مہلک طاقت کے غیر متناسب استعمال کا جواز نہیں بنتا۔ ہم اپنے بدترین دشمنوں جیسے نہیں بننا چاہتے۔

’’ نقطہ عروج 18 مارچ کی رات آیا جب اسرائیلی حکومت نے جان بوجھ کر یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا انتخاب کیا اور جنگ دوبارہ شروع ہوگئی۔ چند حماس کمانڈر ہلاک کرنے کے لیے کی گئی ایک مہلک فضائی کارروائی میں (رپورٹس میں اختلاف ہے کہ تعداد درجنوں تھی یا اس سے کم) ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ فضائیہ کے پائلٹس کی جانب سے ہدف پر گرائے گئے ہتھیاروں کے نتیجے میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے جن میں بہت سے بچے بھی شامل تھے۔ اس حملے کے خوفناک انجام کی اب تک کوئی تسلّی بخش وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

’’ اس کے بعد سے فضائیہ نے غزہ پر اپنے بے امان حملے جاری رکھے ہیں … پوری کی پوری عمارتیں—جن میں بچے، خواتین اور عام شہری موجود ہوتے ہیں— بظاہر دہشت گردوں کے خاتمے یا دہشت گردی کے ڈھانچے تباہ کرنے کے نام پر بمباری کا نشانہ بنتی ہیں۔ چاہے کچھ اہداف جائز بھی ہوں، غیر متعلق شہریوں کو پہنچنے والے غیر متناسب نقصان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ …

’’ یہ محاسبے کا لمحہ ہے۔ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ ہم اپنے ساتھی فعال ڈیوٹی پائلٹس سے اپیل کرتے ہیں: سوالات پوچھنے سے گریز جاری نہ رکھیں۔ … کیونکہ اپنی کارروائیوں کے اخلاقی نتائج آپ کو اپنی پوری زندگی اٹھانے ہوں گے۔ آپ کو اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کا سامنا کرنا ہوگا اور انہیں بتانا ہوگا کہ غزہ میں ایسی ناقابلِ تصّور تباہی کیسے ہوئی اور آپ کے اڑائے ہوئے مہلک ہتھیاروں کے ذریعے اتنے معصوم بچے کیسے جان سے گئے۔‘‘

مجھے یہ خط ملنے کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم، شمعون پیریز کے سینئر خارجہ پالیسی مشیر، نمرود نووک نے 8 جون کو ایک اور کھلا خط بھیجا۔ یہ خط ’’کمانڈرز فار اسرائیلز سکیورٹی‘‘ کی جانب سے تھا جس میں یہودی ڈایاسپورا کے رہنماؤں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ غزہ میں جاری دیوانگی کے خلاف بولیں، اس سے پہلے کہ وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں۔ اس میں جزوی طور پر لکھا تھا:

’’کمانڈرز فار اسرائیلز سکیورٹی کے طور پرجو اسرائیل کی دفاعی، سکیورٹی اور سفارتی خدمات سے تعلق رکھنے والے 550 سے زائد ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں کی تحریک ہے،ہماری ہمیشہ یہ ذمے داری رہی ہے کہ اسرائیل کے مستقبل کو یہودی عوام کے مضبوط، جمہوری گھر کے طور پر محفوظ بنایا جائے۔ حالیہ واقعات نے دنیا بھر کی یہودی برادریوں میں پْرجوش اور بعض اوقات تکلیف دہ مباحث کو جنم دیا ہے، خصوصاً غزہ کی صورتحال کے حوالے سے۔ ڈایاسپورا میں بہت سے لوگوں نے کھل کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

’’ نتیجے میں بعض کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر اسرائیل کو کمزور کرنے یا یہودی ریاست سے اپنی وابستگی سے غداری کا الزام لگایا گیا، اور انہیں کہا گیا کہ جو لوگ بیرونِ ملک رہتے ہیں یا اسرائیلی دفاعی افواج میں خدمت نہیں کرتے، انہیں خاموش رہنا چاہیے۔ ہم اس تصّور کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ ڈایاسپورا کے یہودیوں کو اسرائیل سے متعلق امور پر خاموش رہنا چاہیے۔ … جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عوامی تنقید اسرائیل کو نقصان پہنچاتی ہے، ان سے ہم کہتے ہیں کہ کھلا اور دیانت دار مکالمہ ہماری جمہوریت اور ہماری سلامتی مضبوط ہی کرتا ہے۔‘‘

اسرائیلی میڈیا کا کردار

حیرت انگیز امر یہ ہے،اسرائیلی سرکاری پالیسیوں کے براہِ راست زیرِ اثر ہونے کے باوجود بعض اسرائیلی میڈیا ادارے اپنی حکومت کے اقدامات پر تنقیدی رپورٹنگ کرتے اور درست اصطلاحات برتتے ہیں، جبکہ مغربی میڈیا نے مکمل جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اور غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کی کوریج میں غیر جانبدار رہنے میں ناکام رہا ہے۔

 اکتوبر 2024ء میں جب اسرائیلی اخبار’’ ہاآرتص‘‘(Haaretz) کے ناشر، اموس شوکن نے فلسطینیوں کو’’ مجاہدین آزادی‘‘ قرار دیا تھا تو ان کے یہ الفاظ نہ صرف اسرائیلی معاشرے میں بلکہ مغربی نیوز رومز میں بھی تہلکہ مچا گئے۔لندن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکن نے فلسطینیوں کے جائز حقوق کو تسلیم کیا—ایسے حقوق جن سے اسرائیل کھلم کھلا انکار کرتا ہے اور جنہیں مغربی میڈیا کے مرکزی دھارے کے بعض حلقے جان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہیں۔شوکن نے کہا:

‘‘نتن یاہو حکومت فلسطینی آبادی پر ایک ظالمانہ اپارتھائیڈ نظام مسلط کرنا چاہتی ہے۔ یہ (مغربی کنارے کی )بستیوں کے دفاع کے نام پر دونوں جانب ہونے والے نقصانات کو نظرانداز کرتی اور فلسطینی مجاہدین آزادی کے خلاف لڑتی ہے جنہیں اسرائیل دہشت گرد کہتا ہے۔‘‘

ردِعمل کے بعد شوکن نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد ’’آزادی کے مجاہدین‘‘کو حماس کے مترادف قرار دینا نہیں تھا۔ تاہم اس تنازع نے ’’ہاآرتص‘‘ کا کردار اجاگر کر دیا۔یہ ایک لبرل اسرائیلی اخبار ہے جو تنقیدی صحافت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کی مسلسل اور بے رحمانہ فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والے جرائم پر سوال اٹھاتا رہا ہے جہاں حالیہ اسرائیلی حملے میں’’ اسّی ہزار ‘‘ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے۔

اکتوبر 2023 ء کے بعد سے ’’ہاآرتص‘‘ اْن چند اسرائیلی میڈیا اداروں میں شامل ہے جو غزہ میں جاری اہل فلسطین کی نسل کشی پر تنقیدی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔یہ کارروائیاں وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے حکم پر محصور علاقے پر مسلط کی گئیں۔اور یہ اخبار جنگی جرائم کی نشاندہی کرتا اور جنگ کو طول دینے کے لیے اسرائیلی حکومت کے محرکات پر بار بار سوال اٹھاتا رہا ہے۔’’ہاآرتص‘‘ کے کالم نگار گیڈیون لیوی نے کچھ عرصہ قبل لکھا:

’’اپنی سابقہ جنگوں میں بھی اسرائیل نے ہولناک اعمال کیے۔ کبھی اس نے انکار کیا، چھپایا اور جھوٹ بولا، اور کبھی اعتراف کیا اور شرمندگی محسوس کی۔ اس بار ایسا نہیں ہو رہا۔‘‘

’’ہاآرتص‘‘ نے غزہ کے دلدوز واقعات بیان کرنے کے لیے ’’نسل کشی‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا اور یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کو بھی تفصیل سے کوریج دی۔اسی دوران اسرائیلی نیوز سائٹس، لوکل کال اور +972 میگزین کی تحقیقی رپورٹوں میں اسرائیلی فوجی حربوں کی تفصیل سامنے آئی۔ ان میں واضح انٹیلی جنس کے بغیر غزہ کے رہائشی علاقوں پر بمباری اور ’’بموں کے زہریلے ضمنی اثرات جان بوجھ کر بطور ہتھیار استعمال کرنا تاکہ سرنگوں میں موجود جنگجوؤں کا دم گھوٹا جا سکے‘‘ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

مغربی میڈیا کی اسرائیل نواز جانبداری

چند تنقیدی اسرائیلی میڈیا اداروں کی رپورٹنگ کے برعکس ہے اکتوبر 2023 ء سے مغربی میڈیا کے مرکزی دھارے نے اکثر اہل فلسطین کے مصائب کم کر کے دکھائے اور اسرائیلی اقدامات کو جواز فراہم کیا گیا۔ مغربی میڈیا میں اسرائیل نواز تعصب، زاویہ نظر کی غیر متناسب پیش کش، فلسطینی آوازوں کی کمی اور اسرائیلی حکومت و فوجی بیانیے کی بازگشت معمول بن چکی ۔

ڈاکٹر عسل رعد (assal rad) امریکی ریاست کیلی فورنیا میں مقیم مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی ماہر اور سیاسی مشیر ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی کے معاملات، مشرقِ وسطیٰ، عصری ایران، اور اسرائیل/فلسطین سے متعلق تحقیق اور تحریر کا کام کرتی ہیں۔ان کے مطابق، مغربی میڈیا میں اسرائیل نواز تعصب کی جڑیں امریکا اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے قائم سیاسی اتحاد میں پیوست ہیں۔ یہ دو جماعتی حمایت—جسے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں شیئر کرتے ہیں—اسرائیل کے لیے اس کے اقدامات سے قطع نظر غیر متزلزل پشت پناہی یقینی بناتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کی استعمال کردہ زبان سیاسی مباحثے میں معمول بن گئی ہے جو عوامی تاثر تشکیل دیتی اور میڈیا کے اْن بیانیوں کو متاثر کرتی ہے جو اکثر بغیر چیلنج کے رہ جاتے ہیں۔

’’یہ وہ ماحول ہے جو ایسی صورتِ حال پیدا کرتا ہے۔‘‘ رعد وضاحت کرتی ہیں۔ وہ امریکی سیاست میں پیوست ایک نسلی نقطہ نظر کی بھی نشاندہی کرتی ہیں جسے وہ ’’سفید فام بالادستی کی عینک‘‘ قرار دیتی ہیں—ایک ایسا زاویہ نظر جس کے ذریعے کئی امریکی سیاست دان اور عوام کے بعض طبقات اسرائیل کی حمایت کو دیکھتے ہیں۔

 اسرائیلی حکومت کی ہاآرتص کے خلاف کارروائی

اموس شوکن کے بیانات کے بعد اسرائیلی حکومت کی جانب سے ’’ہاآرتص‘‘ کے خلاف فوری ردِعمل سامنے آیا۔ جواباً حکام نے سرکاری فنڈ سے چلنے والے تمام اداروں کو اخبار سے رابطہ رکھنے یا اشتہارات دینے سے روک دیا اور اس پر ’’دہشت گردی کی حمایت‘‘ کا الزام عائد کیا۔’’ہاآرتص‘‘ نے اپنے اداریے میں لکھا:

‘‘نتن یاہو ایک تنقیدی اور آزاد اخبار کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہاآرتص نہ تو دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی سرکاری پمفلٹ میں تبدیل ہوگا جو حکومت اور اس کے رہنما کی منظور شدہ باتیں شائع کرتا رہے۔‘‘

شدید حکومتی ردِعمل کے باوجود ’’ہاآرتص‘‘ اور چند دیگر اسرائیلی میڈیا اداروں نے نتن یاہو اور جنگ پر اپنی تنقیدی کوریج جاری رکھی اور ایسے زاویے اور رپورٹنگ پیش کی جو مغربی میڈیا میں شاذونادر ہی نظر آتی ہے۔’’یہ واقعی دلچسپ ہے۔ جب بھی میں اسرائیل سے باہر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ بین الاقوامی میڈیا ہم سے زیادہ محتاط ہوتا ہے۔‘‘+972 اور لوکل کال کے ممتاز لکھاری، میرون راپوپورٹ نے اپنی ایک تحریر میں لکھا’’کیونکہ ہم طوفان کے عین مرکز میں ہیں، اور یہاں آپ کو وہ آزادی حاصل ہے جو شاید باہر نہ ہو۔‘‘وہ مذید لکھتے ہیں:

’’مغربی میڈیا میں جیسے ہی آپ اسرائیل کے خلاف کچھ لکھتے اور اہل فلسطین کی نسل کشی یا نسلی تطہیر کے بارے میں کچھ کہتے ہیں، آپ پر فوراً یہ الزام لگا دیا جاتا ہے کہ آپ یہود مخالف ہیں۔ ہمیں—جو یہاں اسرائیل میں رہنے والے یہودی اور اسرائیلی شہری ہیں—ایسا الزام دینا کچھ مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

مغربی صحافت میں منظم دوہرے معیار

2024 ء میں سی این این اور بی بی سی کے لیے غزہ جنگ کور کرنے والے دس صحافیوں نے قطری میڈیا ادارے، الجزیرہ کو نیوز رومز کے اندرونی طری کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کوریج میں منظم اسرائیل نواز تعصب، مستقل دوہرے معیار اور صحافتی اصولوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی بات کی۔انھوں نے دونوں بڑے مغربی میڈیا اداروں میں نیوز روم کی اعلیٰ سطحی شخصیات پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیلی حکام سے جواب طلبی میں ناکام رہیں اور رپورٹنگ میں مداخلت کر کے اسرائیلی مظالم کم دکھانے کی کوشش کرتی رہیں۔ نیز عملے کی پیشگی تنبیہوں کے باوجود جھوٹا اسرائیلی پروپیگنڈا مواد شائع کیا گیا۔

ڈاکٹر عسل رعد کہتی ہیں ’’آپ دیکھتے ہیں کہ ہاآرتص یہودی آبادکاروں اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو بیان کرنے کے لیے’نسل کشی، پوگرومز، نسلی تطہیر اور یہودی دہشت گردی‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔مغربی میڈیا میں ایسی زبان بالکل نظر نہیں آتی۔ وہاں یہ کبھی اس طرح بیان ہی نہیں کیا جاتا۔

*فرانس کے اخبار، لیومانیتے (L’Humanité)نے ایک رپورٹ شائع کی جو ادارے، ٹیک فور فلسطین(Techforpalestine) اور اس کے ’’میڈیا بائس میٹر ٹول‘‘ کی تحقیق پر مبنی تھی۔اس میں پانچ فرانسیسی اخبارات میں شائع ہونے والے جنگ سے متعلق 13,394 مضامین کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جاری جنگ پر شائع ہونے والے مضامین میں’’فلسطینی‘‘کی اصطلاح’’نصف سے بھی کم مضامین میں‘‘ نظر آئی۔مشہور اسرائیلی صحافی، میرون راپوپورٹ کہتے ہیں:

‘‘ہاآرتص، لوکل کال اور +972 کے سوا جنگ کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ بڑے اسرائیلی میڈیا ادارے تقریباً بلا شرط فوجی بیانیہ قبول کرتے ہیں۔ اسرائیل کے جنگی طرزِ عمل، اجتماعی قتل عام یا نسلی تطہیر پر تقریباً کوئی تنقید نہیں ہوتی۔ اگر ذکر آ بھی جائے تو محض کسی کے قول کے طور پر۔‘‘

ڈاکٹر عسل رعد کا کہنا ہے:’’یہ تعصب مغربی میڈیا کے بیانیوں میں بھی جھلکتا ہے۔ مغرب کی رپورٹنگ کو میں’’عملاً پروپیگنڈے کے مترادف’’ قرار دوں گی۔ مغربی میڈیا کا بیانیہ اْن حکومتوں کی پالیسیوں کے مطابق احتیاط سے تشکیل دیا جاتا ہے جو اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں، جن میں امریکا، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ ’’غیر جانب دار خبر پیش کرنے کے بجائے کوریج اکثر اِن ریاستوں کے مؤقف کو جواز دینے کے لیے ڈھالی جاتی ہے۔ یہی بات اسے پروپیگنڈا بناتی ہے۔ آپ خبر دینے کے بجائے ایک کہانی گھڑ لیتے ہیں۔‘‘

نوبل امن انعام یافتہ اور یزیدی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نادیہ مراد نے درست کہا ہے:

’’جب صحافی واقعات جوں کا توں بیان کرنے سے منہ موڑ لیں یا کچھ آوازوں کو دوسروں پر ترجیح دیں، تو یہ انصاف کی تلاش کا عمل بہت زیادہ مشکل بنا دیتا ہے۔‘‘

Similar Posts