پاکستان بیورو شماریات کے جولائی تا دسمبر 2025 کے تجارتی اعداد و شمار کے کاغذی اوراق کو پلٹتے ہیں تو ایسا معلوم دیتا ہے کہ یہ ہماری معاشی کمزوری، برآمدات سے لاپرواہی اور تجارت خارجہ کے شعبے کی بدانتظامی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
یہ اعداد و شمار دہائی دے رہے ہیں کہ یہ حساب کتاب نہیں بلکہ معاشی کمزوری کی صدا بن گیا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ریاست کی معاشی سانس بھاری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مالیاتی گھڑیاں بوجھل بنتی چلی جا رہی ہیں۔
برآمدات کے عدد نے ہی معیشت کو نیچے جھکا دیا ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ بھاری بھرکم بجلی بلوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا کمزور مصنوعات کے بس کا روگ نہیں۔ پی بی ایس کے یہ تجارتی اعداد و شمار ایک ایک کر کے نوحہ گر بن گئے ہیں۔ ذرا اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں۔
برآمدات میں کمی تقریباً 9 فی صد درآمدات 11 فی صد اضافہ اور تجارتی خسارہ تقریباً 35 فی صد اضافہ۔
وزیر اعظم نے حال ہی میں صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم برآمدات میں 8.70 فی صد کی کمی یہ وہ اشارہ ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستان کی پسپائی ہو چکی ہے۔
یہ محض ایک کمی نہیں بلکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی آواز کا مدھم ہونا ہے۔ درآمدات میں 11.28 فی صد کا اضافہ ترقی کی علامت نہیں، اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے درآمدی ملک بننے کا اب طے کر لیا ہے جوکہ بیرونی اشیا پر انحصار کی وہ زنجیر ہے جو ہر ماہ کے آخر میں گردن پر بوجھ بن کر اتر رہی ہے اور ہوش ربا تجارتی خسارہ جوکہ 34.57 فی صد بڑھ چکا ہے، جس نے تجارت و معیشت، مالیات و زرمبادلہ، چین سکھ ، سکون سب کو روند کر اوپر اٹھتی چلی جا رہی ہے۔
اگر ملکی معیشت کا بغور جائزہ لیں تو گزرے چھ ماہ ایسے تھے جن میں برآمدات سکڑتی رہیں، درآمدات پھیلتی رہیں اور تجارتی خسارہ حیران کن رفتار سے بڑھتا چلا گیا۔ اگر ان اعداد و شمار کو جاگنے کی پہلی دستک سمجھ لیں تو فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
تاخیر تو ہوگئی ہے لیکن پھر بھی 5 ماہ ہمارے ہاتھ میں ہیں، اگر ہم نے اسے یوں ہی گنوا دیا تو پھر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، کیونکہ ایک طرف سے بڑھتی ہوئی درآمدی مالیت دوسری طرف سے بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ دونوں مل کر زرمبادلہ کے ذخائر کو دبوچ لیں گے اور پھر ہماری معیشت کو آئی ایم ایف دبوچ لے گا۔
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے اس سے قبل کہا تھا کہ زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل بنائیں کیونکہ پاکستان کے کھیت ملکی جی ڈی پی کا 23 فی صد فراہم کرتے ہیں اور روزگارکا 37 فی صد۔ اور غذائی سلامتی کی 100 فی صد ضمانت دیتے ہیں۔
اگر یہی کھیت برآمدی منصوبہ بندی سے جڑ جائیں، یہ کسان ویلیو ایڈیشن سیکھ لیں، کولڈ اسٹوریج سے لے کر ملکی منڈی اور عالمی منڈی تک کا راستہ ان کو دکھا دیا جائے تو زرعی برآمدات 20 ارب ڈالر سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔
دنیا نے ایسا کر دکھایا۔ ویتنام جنگ زدہ تھا، وہاں کے کسانوں نے صنعتوں کو آباد کیا ان کی برآمدات ہم سے پانچ گنا بڑھ گئیں۔ برازیل قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، ترکیہ زرعی بحران کا شکار تھا، وہ اس بحران سے نکل آیا کیونکہ ان ملکوں نے اپنے کسانوں کو عزت دی۔ اپنے کھیتوں کو صنعت بنایا، برآمد کو ریاستی مشن بنا کر اسے اولین ترجیح دی۔
پاکستان کے کسان کو اگر سستا بیج اور اصلی قیمت پر کھاد مل جائے تو زرعی برآمدات کے ذریعے تجارتی خسارے کو کم اور برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ بیج اصلی ہو، جعلی نہ ہو۔ بروقت پانی ملتا رہے، قیمتیں مناسب ملتی رہیں۔
اصل قیمت پر کھاد باآسانی دستیاب ہوتی رہے۔ اگر ریاست نے کسان کا ہاتھ تھام لیا تو برآمدات اتنی بڑھ جائیں گی کہ تجارتی خسارہ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔
کیونکہ پاکستان کے کسان کے ہاتھ میں محنت ہے ہنر ہے، صبر ہے، وقت کی سختی کا تجربہ ہے۔ حکومت اگر یہ سمجھ لے کہ یہی کھیت صنعت کی بنیاد ہیں، معیشت کی جان ہیں، خوراک کی ضمانت ہیں، افراط زر کم کرنے کا ذریعہ ہیں۔
دنیا کے بہت سے ملکوں نے اپنے کسانوں کا سہارا لیا اور ان کا سہارا بنے۔ ان کو محنت کا صلہ دلوایا، مناسب قیمت دی، راستہ بنایا، زیادہ پیداوار کو ضایع ہونے سے بچایا، ہمارے یہاں تو آلو، پیاز، ٹماٹر اگر زیادہ پیدا ہو جائیں تو ریاست کسانوں سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے اور وہ اپنی فصل کی کم قیمت ملنے پر کھیتوں میں ہی دبانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بہرحال بہت تاخیر ہو گئی ہے لیکن اب بھی موقع ہے کہ برآمد بڑھائیں، درآمد کو مناسب سطح پر لائیں پھر کہیں جا کر تجارتی خسارے کے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔