بھارت کے خلاف تاریخی فتح نے پاک فوج کا عالمی برادری میں ایک بلند مقام متعین کر دیا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی فوجی پیشہ ورانہ صلاحیتوںکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حد درجہ معترف ہیں اور انھیں اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیتے ہیں۔
بھارت کے خلاف جیت سے پاکستان کا وقار بلند ہوا اور آج اسے عالمی تنازعات میں سفارت کاری کی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل ہوتا جا رہا ہے جس کی تازہ مثال امریکا ایران کشیدگی کم کرانے اور دونوں ملکوں کے خلاف ممکنہ جنگ کو رکوانے کے لیے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی جو اس امر کی عکاس ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں پاکستان کے اہم اور مثبت کردار کے معترف ہیں جو حوصلہ افزا بات ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان کو امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
مجوزہ مذاکرات جو ترکیہ کے شہر استنبول میں جمعہ سے شروع ہو رہے ہیں میں سعودی عرب، قطر، عمان، مصر اور یو اے ای کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
یہ مذاکرات امریکا ایران جوہری تنازعہ کے حوالے سے کیے جا رہے ہیں۔ امریکا نے گزشتہ سال ایران پر حملہ کرے بظاہر اس کے جوہری اثاثے تباہ کر دیے تھے جیساکہ ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اس بات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ تاہم انھیں یہ بھی خطرہ ہے کہ ایران دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل کر کے ایٹمی قوت بن سکتا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنی ضرورت اور دفاع کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا پورا استحقاق رکھتا ہے اور اس ضمن میں امریکا سے مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔ دو سال قبل تک دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔ مئی 2023 میں یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
ایران امریکا کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کا ایک واضح موقف ہے کہ مذکورہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور امکانی جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے لہٰذا مناسب یہی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے اور مسائل کا قابل قبول حل تلاش کریں۔
پاکستان ماضی میں بھی سفارتی ذرائع سے ایران امریکا کشیدگی کم کرانے میں ’’بیک ڈور‘‘ کوششیں کرتا رہا ہے، جسے ایران و امریکا ہر دو فریق سے سراہا ہے۔
تازہ صورت حال میں ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے کے لیے پوری طرح اپنا ذہن بنا چکے ہیں۔ وینزویلا کی طرح وہ ایران میں خامنہ ای حکومت کی تبدیلی اور اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت کو ایران کا اقتدار سونپنا چاہتے ہیں تاکہ ایران کے تیل کے ذخائر پر قابض ہو کر مشرق وسطیٰ میں نہ صرف اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں بلکہ اسرائیل کو ایران کی طرف سے درپیش خطرے کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
چین ایران سے تیل کا بڑا خریدار ہے، امریکا ایران میں رجیم چینج کرکے چین کے لیے بھی مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات کے حوالے سے ایران بہت زیادہ پرامید نہیں ہے۔
البتہ بات چیت کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ امریکا واقعی سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات سے کشیدگی کا خواہاں اور جنگ سے گریز کا حامی ہے یا نہیں۔
ایران کے خدشات اور تحفظات ناقابل فہم نہیں جیساکہ صدر ٹرمپ بار بار دھمکی آمیز بیانات کے ذریعے ماحول کو کشیدہ کر رہے ہیں تو مذاکرات کی کامیابی کے بہت زیادہ امکانات نظر نہیں آتے۔ صدر ٹرمپ کا تازہ بیان کہ تہران سے ڈیل نہ ہوئی تو نتائج انتہائی برے ہوںگے، اس امر کا عکاس ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جارحیت پر تلا بیٹھا ہے۔
بہرحال امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب و دیگر عرب ملکوں کی امریکا ایران مذاکرات کو کامیاب بنانے کی سفارتی کوششیں رنگ لائیں گی اور کوئی مثبت نتیجہ ضرور برآمد ہوگا۔
ادھر وطن عزیز میں بلوچستان میں دہشت گردی کے تازہ واقعات نے عوام کو فکرمندی اور حکومت کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
دہشت گردوں نے نہایت منظم اور مربوط طریقے سے بیک وقت 12 مقامات پر حملے کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے خلاف سخت گیر آپریشن اور سیکڑوں دہشت گردوں کی ہلاکتوں کے باوجود وہ آج بھی متحد اور اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں جو ہمارے سیکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنٹوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے بجا کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے حملے ناکام بنا دیے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت بارہ مقامات پر حملہ کرنے میں کامیاب کیسے ہوئے؟