سماجی میڈیا ایکس پر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، تاہم جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پولیس کو حرکت میں آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی کی جائے تو کیا پولیس خاموش تماشائی بنی رہے؟
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ اپنے ہر گناہ کا الزام مریم نواز پر ڈالنا بند کیا جائے۔ اگر کسی لیڈر کی خاطر لوگ باہر نہیں نکلتے تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خود کو کبھی مقبول ترین سمجھتا تھا، اب وہ فضول ترین بن چکا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ آئیں اور قانون کا درس وہ لوگ دے رہے ہیں جو خود مطلق العنان بنتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے کارڈ کھیلنا بند کیے جائیں۔ ان کا واضح کہنا تھا کہ جس نے بھی قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، وہ کٹہرے میں کھڑا ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔