’آر یو ڈیڈ‘ یعنی ’’کیا آپ مرچکے ہیں؟‘‘ نامی یہ ایپ تیزی سے مقبول ہورہی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو تنہا زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی حفاظت کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں۔
یہ ایپ دراصل ایک سیفٹی سروس کے طور پر تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد ایسے افراد کو ذہنی اطمینان فراہم کرنا ہے جو اکیلے رہتے ہیں اور اس خدشے کا شکار ہوتے ہیں کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو شاید کسی کو بروقت خبر نہ ہوسکے۔
مئی 2025 میں متعارف کرائی جانے والی اس ایپ کے ذریعے صارف کو ہر دو دن بعد ایک نمایاں بٹن پر کلک کرنا ہوتا ہے، جس کے ذریعے وہ یہ تصدیق کرتا ہے کہ وہ خیریت سے زندہ ہے۔
اگر صارف مقررہ وقت پر چیک اِن نہیں کرتا تو ایپ خود بخود حرکت میں آجاتی ہے اور پہلے سے درج ایمرجنسی کانٹیکٹس کو الرٹ بھیج دیتی ہے۔ اس پیغام میں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ممکن ہے صارف کے ساتھ کوئی غیر معمولی صورتحال پیش آگئی ہو، جس پر فوری توجہ درکار ہے۔
حالیہ ہفتوں میں چین کے مختلف شہروں میں اکیلے رہنے والے افراد نے بڑی تعداد میں اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیا، جس کے نتیجے میں یہ ملک کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی پیڈ ایپس میں شامل ہو گئی۔
چینی سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق اندازہ ہے کہ 2030 تک چین میں تقریباً دو کروڑ گھرانے ایسے ہوں گے جن میں صرف ایک فرد رہتا ہوگا، جس سے اس طرح کی ایپس کی ضرورت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس ایپ کو ایک ’’سیفٹی کمپینیئن‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو اکیلے رہنے والے طلبا، دفاتر میں کام کرنے والے افراد اور دیگر تنہا زندگی گزارنے والوں کے لیے ایک اضافی حفاظتی سہولت فراہم کرتی ہے۔ صارفین کے تاثرات بھی اس کی افادیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ جو لوگ اکیلے رہتے ہیں، انہیں زندگی کے ہر مرحلے پر ایسی ایپ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ تنہا رہنے والے افراد خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو سکتے ہیں اور کوئی مدد کے لیے کال بھی نہ کر پائے۔ اس نے جذباتی انداز میں کہا کہ کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اگر میں اکیلا مر گیا تو میری لاش تک کون پہنچے گا۔
ابتدا میں یہ ایپ مفت دستیاب تھی، تاہم اب اس کا پیڈ ورژن متعارف کرا دیا گیا ہے۔ ایپ کی کم از کم قیمت 8 یوآن رکھی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 320 روپے بنتی ہے، اور یہ رقم ایک مرتبہ ادا کرنے پر ایپ مستقل طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ چین میں بڑھتی تنہائی کے تناظر میں یہ ایپ کئی افراد کے لیے ایک خاموش مگر اہم سہارا بنتی جا رہی ہے۔