کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کارکردگی پر تمام وزرا کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں شاباش دی۔
وزیراعظم نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ لبرٹری فنانشل کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ہوئے اس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد سے پاکستانی طیاروں کی مانگ بڑھ گئی اور بہت سے ملکوں نے حصول (خریداری) کیلیے بات چیت کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پرعزم ہیں اور ہم اس عفریت کا مکمل صفایا کر کے دم لیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے پیسے بلوچستان کی خونی شاہراہ پر لگانے کا فیصلہ کیا تھا، این 25 شاہراہ پر تیزی سے کام جاری ہے، اس منصوبے پر 400 ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ کام ایک سال میں مکمل ہوجائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے بعد بلوچستان میں کسان اب سولر سسٹم استعمال کر کے کاشت کاری کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں رواں سال کے دوران 7 دانش اسکول بنائے جائیں گے جبکہ لیپ ٹاپس وظائف پرائم منسٹر پروگرام کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپس تقسیم اور ہزاروں بچوں، بچیوں کو وظائف دیے جارہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آگیا، اب ترقی کے اقدامات کریں گے جس سے پاکستان مزید خوشحالی اور ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔