یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی تعیناتی شروع کردی

امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ہونے والا اعلیٰ سطح سہ فریقی اجلاس بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا، جس کے بعد یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی نفری کی تعیناتی شروع کردی ہے، جہاں ڈنمارک اور اس کے اتحادی فوجی مشقوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں چھوٹے پیمانے پر فوجی اہلکار بھیجنا شروع کردیے ہیں۔ یہ اقدام ڈنمارک اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سیکیورٹی یقین دہانی کے طور پر کیا جارہا ہے، ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے پر زور دے رہے ہیں۔

بدھ کو امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے درمیان ہونے والا اعلیٰ سطح سہ فریقی اجلاس بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہوا تاہم اس دوران کسی قسم کی سفارتی کشیدگی سامنے نہیں آئی۔ ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش بدستور موجود ہے اور یہ ایک سنجیدہ اختلاف ہے، جسے روکنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم اور معدنی وسائل سے مالا مال گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اور روس یا چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکا کو اس کا کنٹرول حاصل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔ تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کا مؤقف ہے کہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں اور سیکیورٹی معاملات اتحادیوں کے درمیان حل ہونے چاہئیں۔

روس نے نیٹو کی جانب سے چین اور روس کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دینے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھنے سے خبردار کیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق آرکٹک میں روسی مفادات کو نظرانداز کرنے کا کوئی بھی اقدام جواب کے بغیر نہیں رہے گا۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ نے تصدیق کی ہے کہ نیٹو اتحادیوں کے تعاون سے جزیرے اور اس کے اطراف میں فوجی موجودگی بڑھائی جا رہی ہے۔ جرمنی، فرانس، سویڈن، ناروے اور نیدرلینڈز نے بتایا ہے کہ وہ آئندہ مہینوں میں بڑی فوجی مشقوں کی تیاری کے لیے اہلکار بھیج رہے ہیں۔

ڈنمارک کی وزارتِ دفاع کے مطابق آنے والے ہفتوں میں یورپی اور آرکٹک اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آرکٹک خطے میں فوجی موجودگی اور مشقوں کو عملی طور پر کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ کے مطابق اس وقت گرین لینڈ میں تقریباً 200 امریکی فوجی موجود ہیں جب کہ یورپی تعیناتی ابتدائی مرحلے میں محدود دکھائی دیتی ہے۔ جرمنی نے 13 رکنی ٹیم، سویڈن نے تین، ناروے نے دو جب کہ فرانس نے تقریباً 15 فوجی ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز نے بھی ایک ایک افسر کی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔

گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ نہ تو امریکا کے زیرِ انتظام آنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کی ملکیت بننا چاہتا ہے اور وہ ڈنمارک اور نیٹو اتحاد کا حصہ رہے گا۔

Similar Posts