ایران میں حالیہ بدامنی اور احتجاج کے بعد ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص دارالحکومت تہران میں صورتِ حال بتدریج قابو میں آتی دکھائی دے رہی ہے، جب کہ سیکیورٹی ادارے بدستور الرٹ ہیں اور امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دارالحکومت تہران میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں تہران کی سڑکوں پر تشدد کی سرگرمیوں میں واضح کمی آئی ہے۔ اب نہ تو جلاؤ گھیراؤ کے آثار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ شہر میں معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہو رہی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیاں ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو عوامی احتجاج کو تشدد اور تخریب کاری کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایران کے وزیرِ انصاف امین حسین رحیمی نے کہا ہے کہ 8 جنوری کے بعد ہونے والے غیر قانونی اجتماعات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے، جس کے بعد ریاستی اداروں نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف قانونی تقاضوں کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔
اے پی کے مطابق سیکیورٹی ادارے اس امر پر بھی توجہ دے رہے ہیں کہ غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک مواد کی ترسیل کو روکا جائے، تاکہ غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ برس دسمبرکے آخری ہفتے میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا، احتجاج کی بنیادی وجہ شدید مہنگائی تھی، جس کے بعد تہران کے تاجروں نے سب سے پہلے مظاہرے شروع کیے۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں اور کئی چیزیں مارکیٹ سے غائب ہو گئیں۔
ابتدا میں یہ مظاہرے محدود تھے جو بعد میں ملک گیر مظاہروں کی صورت اختیار کر گئے، جس کے باعث صورتِ حال کشیدہ ہو گئی تھی۔ حکومت نے ان پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں شہریوں کے لیے بیرونِ ملک کالز جزوی طور پر بحال کی گئیں۔
ایران کی فضائی حدود بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تھیں، تاہم بعد ازاں سول ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی کہ ملک کی فضائی حدود دوبارہ معمول کے مطابق فعال ہیں اور ہوائی اڈے مسافروں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے اور بات چیت کو بہتر راستہ سمجھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدھ کو عندیہ دیا کہ انہیں اہم ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران میں ممکنہ پھانسیوں کے منصوبے روک دیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا فوجی کارروائی سے باز رہے گا یا نہیں۔ اس سے ایک دن قبل ٹرمپ نے حکومت مخالف ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ امریکا کی مدد آ رہی ہے اور واشنگٹن مناسب اقدام کرے گا۔
تاہم ایران کے دارالحکومت تہران میں ممکنہ آئندہ صورت حال پر غیر یقینی کے باعث سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر بھر میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کی نمایاں موجودگی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران کے ایک رہائشی نے الجزیرہ کو بتایا کہ دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے شہری نے الجزیرہ کو بتایا کہ شہر میں جگہ جگہ چیک پوسٹس، پولیس ناکے اور گاڑیوں کی تلاشی جاری ہے، جب کہ اسلامی انقلابی گارڈز کی موجودگی بھی نمایاں ہے۔ ان کے مطابق مسلح اہلکار موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر گشت کر رہے ہیں اور سڑکوں پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
موجودہ حالات میں ایران میں سیکیورٹی اقدامات تو برقرار ہیں، تاہم تشدد میں کمی، ریاستی کنٹرول میں اضافہ اور سفارتی بیانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ صورت حال بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی معاشی شکایات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جب کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔