جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے، ایران کا سلامتی کونسل میں امریکا کو واضح پیغام

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں ایران نے امریکا کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کا کوئی ارادہ نہیں، جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان سخت لفظی جنگ دیکھنے میں آئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کیے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب مائیک والٹس نے ایران پر ایک بار پھر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جاری قتل و غارت گری کو روکنے کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں لاکھوں افراد حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور امریکا ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکی مندوب نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن ایکشن لیا جائے گا۔

امریکی مندوب کے بیان پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران نے بھی بھرپور جوابی وار کیا۔

ایرانی نائب مندوب غلام حسین نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی رجیم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کا کشیدگی یا تصادم بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

غلام حسین نے کہا کہ صدر ٹرمپ بارہ روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اب وہی اہداف ایران میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایرانی مندوب کے مطابق ایران نے داعش طرز کی دہشت گردی کا سامنا کیا، جہاں منظم انداز میں سر قلم کیے گئے، لوگوں کو زندہ جلایا گیا اور سرکاری اہلکاروں پر تشدد کیا گیا۔

ایرانی نائب مندوب نے الزام عائد کیا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ بیرونی مداخلت کے لیے جواز پیدا کیا جا سکے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی کی دھمکیوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوگا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گا۔

سلامتی کونسل کے اس خصوصی اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی کشیدگی نے خطے میں ممکنہ تناؤ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان، روس، چین اور فرانس کی امریکی پالیسی پر کڑی تنقید کی۔

پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بیرونی مداخلت اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے، تمام تنازعات کے پر امن حل پر یقین رکھتے ہیں۔

روسی مندوب کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے متعلق خوف و ہراس پھیلا رہا ہے، بیرونی قوتوں کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو ختم کرنا ہے۔

ایرانی شہریوں کی جان اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ جنگل کا قانون نہیں چلنا چاہیے جبکہ فرانس نے ایران سے تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

Similar Posts