ٹرمپ سے ماریا کورینا مچاڈو کی ملاقات، نوبل انعام امریکی صدر کے حوالے کر دیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میڈل انہوں نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کی آزادی کے لیے ان کے کیے گئے کام کے اعتراف میں دیا۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم نوبل کمیٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ یہ اعزاز قانونی طور پر منتقل یا مشترک نہیں کیا جا سکتا اور اصل اعزاز بدستور مچاڈو ہی کے نام رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر اس پیشکش کو ”باہمی احترام کی علامت“ قرار دیا اور مچاڈو کا شکریہ ادا کیا۔ دوسری جانب مچاڈو نے کہا کہ یہ تمغہ انہوں نے وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے ٹرمپ کے کردار کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب مچاڈو وینزویلا کے سیاسی مستقبل میں اپنا کردار یقینی بنانے کے لیے واشنگٹن میں سرگرم ہیں۔ ٹرمپ نے صاف کہا تھا کہ وہ انہیں وینزویلا کا نیا قائد بنانے کے خیال کو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے کھل کر نوبل انعام کے لیے مہم چلائی تھی، اور جب انعام مچاڈو کو ملا تو انہوں نے اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کو خوشگوار قرار دیا گیا۔ یہ ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جو تقریباً ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد مچاڈو نے امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے درجن سے زائد سینیٹرز سے بھی ملاقات کی، جہاں انہیں نسبتاً زیادہ حمایت حاصل دکھائی دی۔ اسی دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ مچاڈو سے ملاقات کے خواہاں تھے، لیکن وہ وینزویلا کی زمینی سیاسی حقیقت کے بارے میں ”حقیقت پسندانہ“ مؤقف رکھتے ہیں۔

مچاڈو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کو یہ میڈل وینزویلا کی آزادی کے لیے ان کے کردار کے اعتراف میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام امریکی صدر کی منفرد وابستگی کا اعتراف ہے۔ تاہم انہوں نے اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

مچاڈو اس وقت مختلف سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، کیونکہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں سیاسی تبدیلی کی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔

تاہم بعض امریکی سینیٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ عبوری قیادت کے دور میں بھی سیاسی جبر میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی، اور وینزویلا کے عوام کے حالات ابھی بھی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کی اولین ترجیح وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک امریکی رسائی کو یقینی بنانا اور ملک کی اقتصادی بحالی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ معاملات کو “مثبت” قرار دیا ہے، جس پر جمہوریت کے حامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ادھر وینزویلا کی حکومت نے حالیہ دنوں میں کچھ سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے، مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا میں جمہوری عمل کی بحالی کا سفر ابھی طویل اور غیر یقینی ہے۔

Similar Posts