بھانجی سے جنسی زیادتی کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کے دوران عدالت کا اظہار برہمی

سندھ ہائیکورٹ نے بھانجی سے زیادتی کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت پولیس فائل نہ ہونے کے باعث ملتوی کردی۔

ہائیکورٹ میں بھانجی سے زیادتی کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی، ملزم کے وکیل نے زیادتی کا شکار بچی کی والدہ کو عدالت بلا لیا۔ اجازت کے بغیر خاتون کو بلانے پر عدالت برہم ہوگئی۔

عدالت نے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ زیادتی کا شکار بچی کی والدہ کو بلا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف دیا کہ بچی کی والدہ عدالت سے کچھ کہنا چاہتی ہیں، اس لیے عدالت آئی ہیں۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ والدہ خود نہیں آئیں، آپ انہیں پڑھا سکھا کر یہاں لائے ہیں، یہ قتل کا مقدمہ نہیں کہ ورثاء معاف کردیں تو کیس ختم ہو جائے، ماموں کا رشتہ بہت پیارا ہوتا ہے اس اعتماد کو توڑنے والے کو سزا ضرور ملنی چاہئے۔

اپیل کے موقع پر یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے آپ کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے، عدالت نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ان خاتون کو تو قانون کا علم نہیں لیکن آپ تو انہیں ایسے استعمال نا کریں۔ پولیس فائل نا ہونے کے باعث سماعت غیر معینہ تک ملتوی کردی۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نصیب گل کو جرم ثابت ہونے پر ماتحت عدالت نے عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ملزم کیخلاف 2021 میں نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔ طلاق کے بعد بچی کی والدہ پولیو ورکر کے طور پر کام کرنے کے لیے گھر سے نکل جاتی تھیں، ماموں نے بچی سے زیادتی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دیکر خاموش کروادیا۔

والدہ کے دوسرے نکاح کے بعد بھی ملزم نے مجرمانہ سرگرمی جاری رکھنے کی کوشش کی۔ بچی کی مزاحمت کے نتیجے میں ملزم کیخلاف مقدمہ اور گرفتاری ہوئی۔

Similar Posts