سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز پر مبینہ طور پر سب میرین یعنی آبدوز سے حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے سری لنکا کی بحریہ اور وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 101 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جبکہ ایک شخص کی ہلاکت اور 78 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس حملے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے اور یہ حملہ کس ملک یا گروہ کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد جہاز سمندر میں ڈوب چکا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا تھا۔
سری لنکا کے وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ بحریہ کو صبح سویرے جہاز کی جانب سے مدد کی اپیل موصول ہوئی تھی جس پر فوری ردعمل دیتے ہوئے صبح چھ بجے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جہاز نے سری لنکا کے جنوبی شہر گال کے ساحل کے قریب خطرے کے سگنل بھیجے تھے جس کے بعد زخمیوں کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
سری لنکن بحریہ کے ایک گمنام اہلکار نے بتایا کہ اب تک 79 افراد کو بچا کر اسپتال پہنچایا جا چکا ہے جن میں سے ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا ہے جبکہ کثیر تعداد میں لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب حکومتی بیانات میں تضاد بھی سامنے آ رہا ہے۔
سری لنکن بحریہ کے ترجمان نے 101 افراد کے لاپتہ ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف 32 زخمی افراد کو بچایا گیا ہے جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید تفصیلات بتائے بغیر پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سری لنکا اس معاملے پر مناسب کارروائی کرے گا اور فوج اب تک کم از کم 30 افراد کو بچانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔