ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سرگرم ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے فون پر رابطہ کر کے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے دونوں رہنماؤں سے الگ الگ فون کالز میں بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو خطے میں تمام متعلقہ ریاستوں کے ساتھ تعمیری مکالمے کو فروغ دینے اور ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدر کی اس پیشکش کا مقصد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں استحکام قائم رکھنا بتایا گیا ہے۔
روس نے اس سلسلے میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا اور ثالثی کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیوٹن کو تہران کی جانب سے صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا اور امریکی حکومت اور اسرائیل کو ہنگامہ آرائی بڑھانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
خیال رہے صدر ٹرمپ نے ایران کی صورتحال سے متعلق بیان میں کہا تھا کہ وہاں ہلاکتیں کم ہو رہی ہیں جس کے بعد فوری امریکی حملے کے خدشات کچھ کم ہو گئے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوِٹ نے کہا تھا کہ صدر نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔