کوئی قانون یا اخلاقیات نہیں ۔ اس دفعہ یہ قانون گرین لینڈ، ڈنمارک ، یورپ پر بھی لاگو ہونے جا رہا ہے ۔ مشرق وسطی کی نئے سرے سے پیدائش صرف مشرق وسطی تک محدود نہیں رہے گی اس کا دائرہ کار ایران سے آگے بڑھ کر افغانستان اور پاکستان ، بھارت تک پھیلے گا۔ اس طرح امریکا اسرائیل کے ذریعے اس پورے خطے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔ نہ صرف یہ کہ اس پورے خطے بلکہ سینٹرل ایشیاء کی ریاستوں کے تمام قدرتی اور معدنیاتی وسائل پر بھی قبضہ کر لے گا۔ ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی صدر ڈونلڈٹرمپ کی ذاتی خواہش پر منحصر نہیں بلکہ ان کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یعنی یہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ کا وہ منصوبہ ہے جس پر آخر کار طویل مدت کے بعد عملدرآمد کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ تہران سے ماہر بین الاقوامی امور محمد حسین باقری نے کہا ہے کہ آج یہاںتہران میں بالکل خاموشی ہے ۔اور شائد طوفان سے پہلی والی خاموشی ہے یہاں تقریباً سب کنٹرول ہو چکا ہے ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد بھی کوئی باہر نہیں نکلا ہے ۔CIAاور موساد اسی طرح سے کام کرتے ہیں ۔ پہلے اختلافات پیدا کرتے ہیں پھر لوگوں کو سڑکوں پر بلایا جاتا ہے اور پھر منظم جانی نقصان دنیا کو دکھایا جاتا ہے ۔ اور نتیجہ یہ دیا جاتا ہے کہ رجیم چینج میں کامیاب نہیں ہوئے تو عوام کے تحفظ کے نام پر براہ راست حملہ کردیں گے ۔ اور یہ بہت ناسمجھی اور بیوقوفی کی بات لگتی ہے کہ کوئی یہ سوچے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے عوام کی بھلائی کے لیے کچھ سوچ رہے ہیں ۔
12جنوری کو 30 لاکھ لوگوں نے سڑکوں پر آکر ایران کی حقیقی صورت حال دنیا پر واضح کردی کہ وہ حکومت اور سپریم لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ماضی کے مقابلے میں اس دفعہ مظاہرے اتنے بڑے نہیں تھے لیکن ہلاکتیں اس دفعہ زیادہ ہوئی ہیں ۔ احتجاج کے دوران پہلے دن سے گیارہویں دن تک ایک بھی گولی حکومت نے فائرنہیں کی ۔ اس کے بعد تین دن میں ایک سو سے زائد سیکیورٹی فورسز اہلکار شہید ہو گئے اس کا مطلب ہے کہ بڑے پیمانے پر مسلح دہشت گرد تنظیمیں سرگرم تھیں جو ہجوم پر پشت سے گولیاں چلا رہی تھی۔ اس لیے حکومت کو آخر کار کریک ڈاؤن کرنا ہی تھا۔ یہ ایرانی قوم کے DNAمیں شامل ہے کہ اندرونی طور پر جتنا بھی اختلاف ہو بیرونی طاقت سے متحد ہو کر لڑتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کے پاس آپشن محدود ہیں لیکن کوئی بھی آپشن رجیم چینج تک نہیں جاتا ۔
تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ہوں گی جہاں ایک قوم مسلسل گزشتہ 45برسوں سے اپنی خود مختاری اور آزادی کا دفاع کر رہی ہو۔ ایک طرف امریکی سامراج دوسری طرف اس کے اتحادی جو سامراجی آلہ کار بن کر ایران سے اس کی آزادی چھیننے کے درپے ہیں۔ لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی ، کھربوں ڈالر کا مسلسل نقصان ، ناکہ بندیاں ، یعنی جان جاتی ہے تو جائے اپنی آزادی پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرنا ، امریکی سامراج اوراس کے چیلے چانٹوں سے نبرد آزما ہونا کوئی مذاق نہیں ۔ یہ ناقابل یقین معجزہ صرف اس وقت رونما ہوتا ہے جب پوری قوم چاہے مرد ہوں یا خواتین اپنی قیادت کے ساتھ مل کر سیسہ پلائی دیوار بن جائیں ۔
انقلاب ایران سے لے کر آج تک ایرانی قوم نے مردوخواتین کے امتیاز سے قطع نظر بے شمار مرتبہ سڑکوں پر آکر اپنی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اگر یہ انقلاب آج تک باقی ہے تو سچ پوچھا جائے تو اس میں مردوں سے زیادہ خواتین کا حصہ ہے ۔ ایک ہفتہ پیشتر جب ایرانی 30لاکھ کی تعداد میں اپنی قیادت سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر آئے تو وہ کسی ریاستی جبر یا بندوق کی نوک پر باہر نہیں آئے ۔
جو نادان سادہ لوح ایرانی خواتین کی آزادی کے حوالے سے غم میں مبتلا ہیں تو ایرانی خواتین کے لیے سنہری موقعہ تھا کہ وہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی آواز پر لبیک کہتیں ۔لیکن یہ تو وطن سے غداری اور نسلوں کی غلامی ہوتی ۔ایرانی قوم کی سامراج سے لڑائی اس کی اکیلے کی لڑائی نہیں ۔ ایرانی قوم اس وقت صرف اپنی آزادی کی لڑائی نہیں لڑ رہی بلکہ وہ دنیا کی دیگر تمام اقوام کی لڑائی بھی لڑ رہی ہے جن کی آزادیوں کو ٹرمپ نے یہ کہہ کر چیلنج کردیا ہے کہ کوئی عالمی قانون اور اخلاقیات نہیں مانتا ۔ قانون صرف وہ ہے جو میرے دماغ اور امریکی مفاد میں ہے ۔
عالمی سامراجی میڈیا اور اس کے ذیلی اداروں کے دھوکے میں آکر پاکستانی عوام کو اس موقع پر غیر جانبدار نہیں رہنا چاہیے۔ ورنہ پاکستان کے لیے خدانخواستہ اسٹراٹیجک خطرات ہوں گے۔ امریکا اور اس سے زیادہ اسرائیل اس ایٹمی پروگرام کے درپے ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور قطر متحدہ عرب امارات مصروغیرہ بلا وجہ نہیں ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران پر حملے سے بازرہے ۔ دنیا پھر سے ایک نئے اٹھارہ سالہ دور میں داخل ہوگئی ہے یہ چند ماہ پیشتر میں نے لکھا تھا ۔ یہ بھی لکھا تھا کہ سال کے شروع سے جون ، جولائی ، اگست تک جو کچھ بھی ہو گا ناقابل یقین حیرت انگیز ہوگا ۔ ایران کے حوالے سے مارچ تک کا وقت انتہائی حساس ہے ۔ اپریل ۔ مئی سے پاکستان کے لیے حساس وقت اور جون ، جولائی اگست بھارت کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔