کاٹن انڈسٹری کی بحالی کیلیے بروقت ’’آکسیجن‘‘ کی عدم فراہمی کی صورت میں ملکی معیشت کے ’’کومہ‘‘ میں جانے کے خطرات پیداہوگئے ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرزفورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ پاکستان حریف ممالک کی نسبت پاکستانی کاٹن انڈسٹری کیلیے بجلی،گیس اور مارک اپ کی بلند شرح،بھاری ٹیکسوں اورمختلف وفاقی و صوبائی محکموں کی مداخلت کے باعث پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافے،حریف ممالک کے ساتھ مسابقت کی سکت نہ ہونے سے ملکی کاٹن پراڈکٹس کی برآمدات میں تسلسل سے کمی کارحجان غالب ہوگیاہے،جو پوری کاٹن انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز اضطراب کاباعث بن گئی ہے.
مقامی کاٹن انڈسٹری تاریخ کی بد ترین بحران کی زد میں آنے سے ملکی معیشت کی کمزور ہونے کی نشاندہی کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وصوبائی حکومتوں کے چاہیے کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اوررمضان پیکج کیلیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کے بجائے صنعتوں کی بحالی کیلیے پیکیج متعارف کرائے،کیونکہ سیکڑوں صنعتوں کی فعالیت سے ناصرف معیشت مضبوط ہوسکے گی، بلکہ بیروزگاری اور غربت میں بھی کمی واقع ہوگی۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق 15جنوری 2026 تک ملک بھرکی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 54 لاکھ 97 ہزارگانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے،جوگزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صرف 7 ہزارگانٹھ زائد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 4 فیصد کی کمی سے 25 لاکھ 86ہزار، جبکہ سندھ میں 4 فیصدکے اضافے سے 29 لاکھ 11 ہزارگانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے۔