راولپنڈی: پیر علی امام جیلانی پر قاتلانہ حملہ گدی نشیی و جائیداد کا تنازع نکلا

راولپنڈی کے تھانہ روات کے علاقے میں پیر علی امام جیلانی پر قاتلانہ حملے کا معاملہ گدی و سجادہ نشیی سمیت جائیداد کا مبینہ شاخسانہ  نکلا۔

پولیس نے زخمی ڈرائیور میاں احمد نواز کے بیان پر قتل، اقدام قتل اور اعانت جرم  وغیرہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا، گیا ملزمان میں براہ راست فائرنگ کرنے والوں میں ایک ملزم اور اعانت جرم کے تحت نامزد تمام ملزمان پیر علی امام جیلانی کے حقیقی و سوتیلے بھائی ہیں۔ 

 مقدمہ درج کراتے ہوئے پیرسید علی امام جیلانی کے ڈرائیور میاں احمد نواز قادری نے بتایا کہ پیر سید عبد القادر شاہ  نے گزشتہ سال انتقال سے قبل  اپنی زندگی میں پیر سید علی امام جیلانی کو اپنا سجادہ نشین نامرد کرکے  اپنی تمام جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کر دی اور ادارہ قادریہ جیلانیہ انٹرنیشنل حسینیاں شریف اور اس سے منسلک جائیداد پیر سید علی امام جیلانی کے نام  کردی تھی۔

ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا کہ اسی رنج میں  ملزمان رحیم شاہ اور حمزہ حیدر سمیت چار نامعلوم افراد نے  پیر سید علی امام جیلانی سمیت ہم پر  قادریہ جیلانیہ انٹرنیشنل حسینیاں شریف سے جامع مسجد فیض سروبہ کلرسیداں جاتے ہوئے حملہ کردیا۔

رحیم شاہ کی فائرنگ سے شفقت حسین شدید زخمی، بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، حمزہ حیدر کی فائرنگ سے پیر سید علی امام جیلانی کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگیں، جبکہ میں بھی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوا زخمیوں کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں سول اسپتال راولپنڈی ریفر کردیا گیا۔

مقدمے میں نقیب شاہ، حسیب شاہ اور انوار الحق شاہ  پر  حملے کی منصوبہ بندی و اعانت جرم  کا الزام عائد کیا گیا ہے، پولیس نے تمام  نامزد اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی، ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔

Similar Posts