محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا ساتھ دینے کا عندیہ

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، بے شک حکومت آپ کی ہو، جب بھی آپ عوام کی فلاح کی بات کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  اللہ کا فرمان ہے برے کاموں میں کسی کا ساتھ نہ دو، ہم اس ایوان کو طاقت کا سر چشمہ بنانا چاہتے ہیں، کوشش کریں گے ایسی بات نہ کریں جو ماں بہن کے سامنے نہیں کرسکتے، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اچھے کاموں کے لئے ہمارے ووٹ بھی اپنے ووٹوں میں شامل کرلیں، آئیں داخلہ و خارجہ و معاشی پالیسیاں اس ایوان میں بنائیں، ہمیں وہ باتیں یہاں نہیں کرنی چاہئے جو اپنی ماں بہن کے سامنے نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پی پی اور مسلم لیگ ن کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہم نے اپنے ووٹ کا ایک روپیہ کبھی کسی جماعت سے نہیں لیا، میں نے اصول کی بنیاد پر جس کے ساتھ کھڑاہوا اس کے ساتھ کھڑا رہا ہوں، میں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں آپ کو بلا وجہ تنگ نہیں کروں گا، اسپیکر سردار ایاز صادق سے ملوں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، ہم پندرہ افراد سامنے نہیں لاسکتے جو قوم کی رہنمائی کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ آسمان سے نہیں گریں گے ہم سب ملکر بیٹھیں، ہمیں وینزویلا سے سبق سیکھنا ہوگا، ہمارے ساتھ تو وینزویلا بہت پہلے ہوچکے دو ہیلی کاپٹر آئے اور ہماری خود مختاری کچل کر چلے گئے، آج بھی بعض طاقتیں بعض طاقتوں کو لڑانے کے لئے کوشاں ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج پاکستان مشکل میں ہے جبکہ باقی ممالک آگے نکل گئے، پاکستان کی فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہے کہ کسی کا باپ کسی کو اغواء نہیں کرسکتا، ہمیں اپنے لوگوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ اس وقت سخت مشکل میں ہے اور بعض طاقتیں اس خطے کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں، جنگ شروع ہوئی تو ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا، ہم نے ہزاروں لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر گھروں سے بے دخل کیا، اس سردی میں تیراہ سے لوگوں کو نکالنا دہشت گردی نہیں ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں عدم تشدد کا پرچار کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، سابقہ فاٹا پاکستان کو ایک لاکھ سپاہی دیتا ہے۔ سندھیوں کے ساحل پر پہلا اختیار سندھیوں کا ہے، یہ بات بلوچ پشتونوں اور سرائیکیوں سے بھی کریں۔

انہوں نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا، ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب کا کسان آلو پھینک رہا ہے، کوئی پشتون یا بلوچ اسمگلنگ کرتا ہے تو گولی مار دو۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر سے ہزاروں لوگ افغانستان جاتے تھے اور پیٹ پالتے تھے، آپ کا سامان افغانستان میں بکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہیں کہ افغانستان سے متعلق ہمارے خدشات ہیں، آپ افغانستان کے خلاف ثبوت دیں، مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔

Similar Posts