سانحہ گل پلازہ، انسانی جانیں راکھ کا ڈھیر

کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے۔ ایک فائر فائٹر سمیت ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے جب کہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔گل پلازہ میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔

کراچی کی فضا ایک بار پھر دھوئیں، راکھ اور سسکیوں سے بوجھل ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک مکمل المیہ، ایک اجتماعی ناکامی اور ایک ایسے نظام کی عکاس ہے جو برسوں سے صرف فائلوں، بیانات اور رسمی کارروائیوں میں زندہ ہے، مگر عملی طور پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

گل پلازہ میں بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بھرپور تجارتی مرکز کو کھنڈر میں بدل دیا، وہ جگہ جہاں روزانہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی روزی وابستہ تھی، جہاں چھوٹے بڑے تاجروں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی لگا رکھی تھی، جہاں نوجوانوں کے خواب اور بزرگوں کی عمر بھر کی کمائی ایک دوسرے کے ساتھ سانس لیتی تھی، چند گھنٹوں میں راکھ بن گئی۔

آگ لگنے کے بعد اس پر قابو پانے میں 36 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، جو بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس طویل جدوجہد کے دوران عمارت کے دو بڑے حصے منہدم ہوگئے، جس نے نہ صرف ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ بنایا بلکہ اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ عمارت کی ساخت، تعمیراتی معیار اور سیفٹی انتظامات کس قدر ناقص تھے۔

فائر بریگیڈ، ریسکیو اہلکار اور دیگر ادارے اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتے رہے، مگر محدود وسائل، پرانی مشینری، ناکافی تربیت اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث نقصان کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ گل پلازہ میں موجود دکانوں کی تعداد 1200 بتائی جاتی ہے اور ہفتے کی رات ہونے کے باعث کئی دکانوں میں ملازمین، مزدور اور بعض تاجر خود بھی موجود تھے۔

اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو وہ انسانی جانیں ہیں جو یا تو شعلوں کی نذر ہوگئیں یا عمارت کے ملبے تلے دب گئیں۔ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً سرد خانے میں رکھا جانا اس بات کی علامت ہے کہ ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں شناخت، وقار اور انسانی احترام تک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک نہ ختم ہونے والا کرب ہے۔ کوئی باپ اپنے بیٹے کی راہ تک رہا ہے، کوئی ماں اپنے لختِ جگر کی تصویر ہاتھ میں لیے در بدر پوچھ رہی ہے، اور کوئی بیوی ایک نام کی تصدیق کے لیے سرکاری فہرستوں کے چکر کاٹ رہی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو کسی بھی زندہ ضمیر معاشرے کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی جھنجھوڑے جاتے ہیں؟ یا پھر ہر بڑے سانحے کے بعد چند دن کی ہمدردی، چند رسمی بیانات، چند انکوائری کمیٹیاں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے؟ گل پلازہ کا سانحہ اس لحاظ سے منفرد نہیں کہ اس سے قبل بھی کراچی کے مختلف تجارتی مراکز میں آگ لگنے کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

کوآپریٹو مارکیٹ، عرشی شاپنگ مال، آر جے مال، عائشہ منزل اور دیگر مقامات پر ہونے والی آتشزدگیوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیا تھا کہ ہمارا شہری انفرا اسٹرکچر خاص طور پر تجارتی عمارتیں، آگ سے بچاؤ کے حوالے سے ایک ٹائم بم بنی ہوئی ہیں۔ مگر افسوس کہ ہر واقعے کے بعد ذمے داری قبول کرنے کے بجائے اسے ایک حادثہ، ایک شارٹ سرکٹ یا ایک اتفاق قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔گل پلازہ میں آگ لگنے کے اسباب پر اگر تحقیقی نظر ڈالی جائے تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔

ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کو وجہ بتایا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا شارٹ سرکٹ بذاتِ خود ایک قدرتی آفت ہے یا ناقص وائرنگ، غیر معیاری برقی آلات، اوور لوڈنگ اور غیر قانونی کنکشنز کا منطقی نتیجہ؟ بیشتر شاپنگ سینٹرز میں بجلی کا نظام اس وقت کا ہے جب دکانوں کی تعداد، بجلی کے استعمال اور جدید آلات کا تصور موجود ہی نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ دکانیں بڑھتی گئیں، فلورز میں تبدیلیاں ہوتی رہیں، مگر وائرنگ اور حفاظتی نظام کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک معمولی چنگاری نے پورے پلازہ کو لپیٹ میں لے لیا۔اس کے ساتھ ساتھ فائر سیفٹی قوانین کا عدم نفاذ بھی ایک بنیادی وجہ ہے۔

سوال یہ نہیں کہ قوانین موجود ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ان پر عمل درآمد ہوتا ہے؟ شاپنگ سینٹرز میں فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز، ایمرجنسی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات اور واضح انخلاء کے راستے ہونے چاہئیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر عمارتوں میں یا تو یہ سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں، یا اگرکاغذوں میں دکھا دی جائیں تو عملی طور پر ناکارہ ہوتی ہیں۔ گل پلازہ میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی۔

دکانوں کے اندر سامان اس طرح بھرا ہوا تھا کہ راستے تنگ ہوگئے تھے، ایمرجنسی ایگزٹس یا تو بند تھے یا سامان سے اٹے ہوئے تھے، اور فائر فائٹنگ آلات موجود ہونے کے باوجود قابل استعمال نہیں تھے۔یہاں انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی کھل کر سامنے آتی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی ادارے، فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ محکمے اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کرتے رہے۔ غیر قانونی تعمیرات، اضافی فلورز، بیسمنٹ میں غیر مجاز دکانیں اور گودام، سب کچھ اداروں کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا، مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ رشوت، سفارش اور مفادات کا جال اس قدر مضبوط ہوچکا ہے کہ قانون محض کمزور شہریوں کے لیے رہ گیا ہے۔

تاہم ساری ذمے داری صرف سرکاری اداروں پر ڈال دینا بھی مکمل انصاف نہیں۔ دکان دار، تاجر انجمنیں اور شاپنگ مال کی انتظامیہ بھی اس غفلت میں برابرکی شریک ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سیفٹی آڈٹ یا فائر سیفٹی کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو تاجر اسے اضافی خرچ اور غیر ضروری مداخلت قرار دے کر مزاحمت کرتے ہیں۔ فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم یا ایمرجنسی راستوں کے لیے جگہ مختص کرنے کے بجائے اس جگہ کو دکان یا گودام بنا دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکے۔

گل پلازہ میں موجود سیکڑوں دکانوں میں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا سامان موجود تھا، مگر اس سامان کی حفاظت کے لیے بنیادی اقدامات تک نہیں کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک لمحے میں سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔اس سانحے کے معاشی اثرات بھی کسی ایک پلازہ تک محدود نہیں۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب اور تجارتی مرکز ہے۔ یہاں ہونے والی ہر بڑی تباہی کا اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔ گل پلازہ میں موجود دکانیں نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ ملک کے مختلف حصوں کو سامان فراہم کرتی تھیں۔ یہاں کپڑا، الیکٹرانکس، جوتے، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء کا بڑا کاروبار ہوتا تھا۔ ان دکانوں کے جلنے سے سپلائی چین متاثر ہوئی، بے شمار افراد بے روزگار ہوگئے اور مارکیٹ میں اشیاء کی قلت اور مہنگائی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

بینکوں سے لیے گئے قرضے، ادھار پر لیا گیا سامان اور آنے والے آرڈرز، سب کچھ ایک جھٹکے میں غیر یقینی کا شکار ہوگیا، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متزلزل ہوگا، اورکاروباری سرگرمیاں یا تو سکڑ جائیں گی یا شہر سے باہر منتقل ہونے لگیں گی۔ یہ صرف کراچی کا نقصان نہیں بلکہ پورے پاکستان کا نقصان ہوگا۔ جب تک بلڈنگ کنٹرول، فائر سیفٹی، شہری منصوبہ بندی اور تجارتی ضوابط کو سنجیدگی سے نافذ نہیں کیا جائے گا، ایسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ جب تک رشوت اور سفارش کا دروازہ بند نہیں ہوگا، تب تک عمارتیں موت کے کنویں بنی رہیں گی۔ جب تک تاجر خود اپنی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک نقصان کا یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ تاجر برادری اور تاجر انجمنیں محض احتجاج اور مطالبات تک محدود نہ رہیں بلکہ خود احتسابی کا عمل بھی شروع کریں۔ سیفٹی آڈٹ کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا جائے۔ اگر آج چند لاکھ یا چند کروڑ روپے خرچ کرکے فائر سیفٹی کے انتظامات کر لیے جائیں تو کل اربوں روپے کے نقصان اور قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ تجارتی مراکز کے لیے لازمی سیفٹی سرٹیفکیشن کا نظام متعارف کرائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرائے، چاہے اس کے لیے کسی بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے۔ گل پلازہ کے شعلوں نے ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھایا ہے۔

یہ آئینہ ہمارے نظام کی کمزوریوں، ہماری ترجیحات کی غلطیوں اور ہماری اجتماعی بے حسی کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر ہم نے اس آئینے میں جھانک کر خود کو درست نہ کیا تو یہ شعلے کسی اور بازار، کسی اور پلازہ اور کسی اور خاندان کی زندگی کو راکھ بنا دیں گے۔ کراچی کے راکھ بنتے خواب اور لاوارث شہری ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا ہم صرف ماتم کرنے کے لیے زندہ ہیں یا سیکھنے اور بدلنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں؟ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے، کیونکہ ہر تاخیر ایک نئی آگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

Similar Posts