اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 4 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، حالانکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت جلد مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی ۔ علاوہ ازیں مختلف آپشنز پر بھی غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈ کے ساتھ ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا عندیہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں۔ مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے پر فوری دباؤ نہیں ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور سروسز کی برآمدات بڑھ رہی ہیں، جبکہ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے، اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً 2 درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔