پرتھ میں پرتھ اسکارچرز کے خلاف بی بی ایل کوالیفائر میچ کے دوران موئیسس ہینرکس نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان اب معاملات مکمل طور پر ٹھیک ہو چکے ہیں۔
یہ واقعہ گزشتہ جمعہ کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے بی بی ایل میچ کے دوران پیش آیا، جب میچ کے دوران اسٹیو اسمتھ نے بابر کو سنگل لینے سے انکار کیا اور پاور پلے میں خود اسٹرائیک لیتے ہوئے ریکارڈ 32 رنز بنا ڈالے، جبکہ بابر اگلی ہی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔
پویلین واپس جاتے ہوئے بابر اعظم نے غصے میں باؤنڈری کی رسی پر بیٹ مارا، جس پر کمنٹیٹر و سابق آسٹریلوی کرکٹر مارک وا نے کہا کہ یہ ’دیکھنا بلکل اچھا نہیں لگ رہا، آپ جو بھی محسوس کررہے ہیں وہ ظاہر نہ کریں‘۔
“Wasn’t happy, Babar.” 😳
Drama in the middle of the SCG after Steve Smith knocked back a run from Babar Azam, so he could take strike during the Power Surge. #BBL15 pic.twitter.com/rTh0RXE0A5
— KFC Big Bash League (@BBL) January 16, 2026
بعد ازاں بابر اعظم مبینہ طور پر ساتھی کھلاڑیوں سے الگ تھلگ نظر آئے اور میچ جیتنے کے باوجود سڈنی تھنڈرز کے کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا تھا۔
ہینرکس نے فاکس کرکٹ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ معاملہ ثقافتی فرق کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، جسے بابر پہلے پوری طرح سمجھ نہیں پائے تھے۔
ہینریکس کے مطابق بابر کو وضاحت دی گئی تو وہ مطمئن ہو گئے اور اب دونوں اسٹار کھلاڑیوں کے درمیان کوئی تلخی نہیں رہی۔
“Two of the greats, back friendly again.”
Moises Henriques explains the situation between Babar Azam and Steve Smith at the SCG. #BBL15 pic.twitter.com/vcUj6m4XrD
— KFC Big Bash League (@BBL) January 20, 2026
سکسرز کے کوچ گریگ شپراڈ بھی ابتداء میں بابر کی مایوسی پر فکرمند تھے کیونکہ بابر نے خود کو اس موقع پر نظر انداز محسوس کیا تھا۔
سابق آسٹریلوی کھلاڑی مائیک ہسی نے سکسرز کی مینجمنٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات کو سمجھداری سے حل کرنا ہی ٹیم کو بی بی ایل کی مضبوط ٹیم بناتا ہے۔