اماراتی صدر نے ٹرمپ کے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی ہے۔

منگل کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔

یہ اعلان یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی غزہ بورڈ آف پیس میں فعال شمولیت اور عملی شراکت کے لیے تیار ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یو اے ای بورڈ آف پیس کے مشن میں مؤثر کردار ادا کرے گا اور عالمی سطح پر تعاون، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ ’بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے‘۔

اس طرح متحدہ عرب امارات نہ صرف پہلا مسلم بلکہ اُن اوّلین ممالک میں بھی شامل ہوگیا جس نے کھل کر اس امریکی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت وہاں حماس کی جگہ ایک عالمی بورڈ کے ذریعے امورِ مملکت چلانے کا امن منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس بورڈ آف پیس کی سربراہی خود امریکی صدر کریں گے جب کہ بانی ارکان میں ٹونی بلیئر سمیت امریکی وزیر خارجہ، ٹرمپ کے داماد اور دیگر ٹیکنوکریٹس شامل ہیں، اب تک جن ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی پیشکش کو قبول کیا ہے ان میں پہلا یورپی ملک ہنگری ہے جس نے غیر مشرط طور پر حامی بھری ہے۔

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے تاہم اب تک باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے اصولی طور پر آمادگی کا اظہار کیا ہے تاہم فیصلے کا حتمی اعلان چارٹر کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب فرانس کے صدر  ایمانویل میکرون نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا ہے، جس کے جواب میں امریکی صدر نے فرانسیسی شراب شیمپین پر 200٪ ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جب فرانسیسی صدر نے امریکی دباؤ اور ٹیرف دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تو ٹرمپ برہم ہوگئے اور کہا کہ ایمانویل میکرون زیادہ عرصے فرانس کے صدر نہیں رہیں گے۔

علاوہ ازیں جرمنی، اسپین، نیدرلینڈز، سویڈن، جاپان اور برطانیہ جیسے امریکی اتحادی بھی تاحال ٹرمپ کے اس بورڈ آف پیس میں شمولیت سے ہچکچا رہے ہیں۔ یورپی ممالک نے بھی تاحال خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جب کہ اقوام متحدہ نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ بورڈ آف پیس کی تاحیات سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگی جب کہ رکن ممالک کی مدتِ تین سال ہوگی، البتہ کوئی ملک ایک ارب ڈالر ادا کرے تو وہ بورڈ کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے بدلے مستقل رکنیت حاصل کر سکتا ہے۔

Similar Posts