امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کے معاملے پر امریکا اور فرانس کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے درمیان جاری کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب صدر ٹرمپ نے ماکروں کی جانب سے بھیجا گیا ایک نجی پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔
فرانسیسی صدر کا پیغام شیئر کرنے کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فرانسیسی صدر زیادہ عرصے اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی کوششوں نے یورپ اور امریکا کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
اس تناؤ کی ایک بڑی وجہ صدر ٹرمپ کا وہ مؤقف ہے جس میں وہ گرین لینڈ کو اسٹریٹجک اور معاشی اعتبار سے امریکا کے لیے اہم قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ یورپی ممالک اس معاملے کو خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
امریکی صدر فرانس کے اس رویے پر بھی برہم نظر آئے کہ پیرس ان کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اس حوالے سے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرانسیسی وائن اور شیمپئن پر دو سو فیصد تک ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے بعد صدر ماکروں خود بورڈ میں شامل ہو جائیں گے، اگرچہ امریکا کو ان کی شمولیت کی ضرورت نہیں۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد فرانس نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا کہ دنیا ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں قوانین کی پاسداری کمزور ہوتی جا رہی ہے اور سامراجی عزائم دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خودمختاری کے خلاف طاقت کے طور پر ناقابل قبول ٹیرف کا استعمال کیا جا رہا ہے جو عالمی نظام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
صدر ماکروں نے اپنے خطاب میں یورپ کے معاشی مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اہم شعبوں میں یورپی ممالک کو چینی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔
ان کے مطابق عالمی سیاست اور معیشت میں تیزی سے بدلتے حالات کے پیش نظر یورپ کو آزادانہ اور متوازن فیصلے کرنا ہوں گے۔