ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر مزید بڑھ گئی

انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید بڑھ گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں دسمبر میں 213 ملین ڈالرز کے انفلوز کے بعد مجموعی انفلوز بڑھ کر 11ارب 70کروڑ تک پہنچنے، مالی سال 2026 میں پاکستان کو 4ارب 50کروڑ ڈالر کے غیرملکی قرضے موصول ہونے اور پاکستانی کمپنیوں کی چائنیز کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچرز جیسے عوامل کے باعث ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں بدھ کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔

امریکا کی روس چین ایران یورپین یونین ممالک سے تنازعات اور ٹیرف کی جنگ کے سبب  ڈی ڈالرائزیشن کے رحجان کے سبب انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر اتارچڑھاؤ کے ساتھ تنزلی سے دوچار رہا۔

کاروباری دورانیے کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قدر 25پیسے کی کمی سے 279روپے 66پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن سپلائی میں بہتری رونما ہوتے ہی درآمدی ضروریات کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 279روپے 90پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی دو روزہ وقفے کے بعد ڈالر کی 14پیسے کی کمی سے 281روپے 18پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

پاکستان اور چین کے درمیان فوڈ پراسیسنگ قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجی لائیو اسٹاک میں جوائنٹ ایگریکلچر وینچر کے ملٹی ملین معاہدوں، اسلامی ترقیاتی بینک سے 603ملین ڈالر قرض کے 3مواہدے طے پانے مختلف 13ممالک کی پاکستان کے ساتھ دفاعی مصنوعات کے خریداری معاہدوں میں دلچسپی جیسے عوامل بھی زرمبادلہ کی مارکیٹوں پر اثرانداز رہے۔

Similar Posts