ٹی20 ورلڈ کپ: بنگلادیش کے بھارت نہ جانے پر دوسری ٹیم کو شامل کرنے کا فیصلہ

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کی درخواست مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ بنگلادیش بھارت نہ گیا تو متبادل ٹیم کا انتظام کریں گے، بنگلادیشی ٹیم اگر بھارت نہیں جاتی تو اسکاٹ لینڈ متبادل ٹیم کے طورپر شامل ہوگی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ایک دن کی مہلت دی ہے تاکہ وہ بنگلہ دیشی حکومت سے مشاورت کے بعد یہ حتمی فیصلہ کرے کہ آیا بنگلہ دیش کی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کھیلنے کے لیے بھارت جائے گی یا نہیں۔ اگر بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت جانے سے انکار کیا تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرلیا جائے گا، جو ٹیم رینکنگ کی بنیاد پر ہوگا۔

یہ فیصلہ بدھ کو آئی سی سی بورڈ ممبرز کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں اکثریتی ڈائریکٹرز نے بنگلہ دیش کی جگہ متبادل ٹیم شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اجلاس میں موجود 15 ڈائریکٹرز میں سے صرف پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت کی۔

اجلاس پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی اور دیگر بورڈز کو خط لکھنے کے بعد بلایا گیا تھا، جس میں بنگلہ دیش کے سری لنکا میں میچز کھیلنے کے مؤقف کی حمایت کی گئی تھی کیوں کہ سری لنکا بھی ٹورنامنٹ کا شریک میزبان ہے۔

آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں تمام فل ممبر ممالک کے نمائندے شریک تھے، جن میں آئی سی سی چیئرمین جے شاہ، بی سی بی صدر امین الاسلام، بی سی سی آئی سیکریٹری دیوا جیت سائیکیا، سری لنکا کرکٹ کے صدر شامی سلوا، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی، کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ، زمبابوے کرکٹ کے صدر تاوینگا موکحلانی، ویسٹ انڈیز کرکٹ کے صدر کشور شیلو، کرکٹ آئرلینڈ کے چیئرمین برائن میک نیس، نیوزی لینڈ کرکٹ کے نمائندے راجر ٹوئس، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامسن، کرکٹ جنوبی افریقا کے نمائندے محمد موساجی اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین میر واعظ اشرف شامل تھے۔

اس کے علاوہ دو ایسوسی ایٹ ممبر ڈائریکٹرز، آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا، ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ، جنرل منیجر گورو سکسینا اور آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ اینڈریو ایفرگریو بھی اجلاس میں موجود تھے، جو گزشتہ ہفتے ڈھاکہ میں بی سی بی کے ساتھ سکیورٹی خدشات پر ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے 4 جنوری کو بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت نہیں بھیجے گا۔ یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی تھی کہ وہ آئی پی ایل 2026 کے لیے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کر دیں، تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

بعد ازاں بی سی بی نے سری لنکا میں میچز کھیلنے یا گروپ تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں کھیلنے والی ٹیموں کے لیے خطرات معتدل سے قدرے زیادہ ہیں تاہم کسی ٹیم کے خلاف براہ راست خطرے کی کوئی اطلاع موجود نہیں۔

بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ سی میں شامل کیا گیا ہے، جہاں ٹیم کے پہلے 3 میچز 7، 9 اور 14 فروری کو کولکتہ میں جب کہ آخری میچ 17 فروری کو ممبئی میں شیڈول ہے۔

Similar Posts