سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ویرونیکا کو لکڑی، جھاڑو اور ریک جیسے اوزار اپنے جسم کو کھجانے کے لیے استعمال کرتے دیکھا گیا، جس کے بعد سائنسدانوں نے مویشیوں کی ذہانت پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے۔
ویانا کی یونیورسٹی آف ویٹرنری میڈیسن کے محققین کی جانب سے سائنسی جریدے کرنٹ بایولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ویرونیکا کا یہ رویہ باقاعدہ ’’ٹول یوز‘‘ یعنی اوزار کے استعمال کی واضح مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً دس ہزار سال سے انسان کے ساتھ رہنے والے مویشیوں میں اس سطح کی ذہانت پہلی بار ریکارڈ کی گئی ہے۔
A cow has been filmed using tools for the first time ever, stunning scientists
Veronika, a cow from Austria, taught herself to use a broom – and we have the footage to prove it
Yes you are eating intelligent animals https://t.co/YjOkMo7xnJ pic.twitter.com/w5poVnS2cg
— GO GREEN (@ECOWARRIORSS) January 20, 2026
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف آزمائشی مراحل کے دوران ویرونیکا نے جھاڑو کے کانٹے دار حصے کو ترجیح دی، تاہم جب جسم کے نچلے اور نرم حصوں تک پہنچنا مقصود ہوا تو اس نے جھاڑو کا دوسرا سرا استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق اوزار کے مختلف حصوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ’’ملٹی پرپز ٹول یوز‘‘ کہلاتا ہے، جو غیر بندر نما جانوروں میں نہایت نایاب سمجھا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اگر جھاڑو کسی غلط زاویے پر ہو تو ویرونیکا پہلے اپنی زبان سے اسے درست جگہ پر لاتی، پھر دانتوں کی مدد سے اسے جما کر کھجانے کا عمل مکمل کرتی۔ سات مختلف سیشنز میں کیے گئے تجربات کے دوران 76 مرتبہ اسے ایسے اوزار استعمال کرتے دیکھا گیا، جن کے ذریعے وہ جسم کے اُن حصوں تک پہنچ سکی جو عام طور پر ممکن نہیں ہوتے۔
ویرونیکا کی دیکھ بھال کرنے والے آسٹریا کے علاقے کیرنتھیا سے تعلق رکھنے والے نامیاتی کسان اور بیکر وٹگر ویگیلے کے مطابق یہ عادت اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ گائے برسوں پہلے لکڑی کے ٹکڑوں سے کھیلنا شروع ہوئی، پھر آہستہ آہستہ اس نے انہیں جسم کھجانے کے لیے استعمال کرنا سیکھ لیا۔ ویگیلے کہتے ہیں کہ ویرونیکا کی غیر معمولی ذہانت نے انہیں حیران کر دیا اور یہ احساس دلایا کہ انسان جانوروں سے بھی صبر، سکون اور نرمی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جنگلی جانوروں میں بھی اوزار کے استعمال کی مثالیں دیکھی گئی ہیں، جیسے بندروں کا پتھروں سے گریاں توڑنا، اورنگوٹان کا پتے سے آواز بدلنا یا ہاتھیوں کا اپنے مردہ ساتھیوں پر مٹی ڈالنا، مگر مویشیوں میں اس قسم کی ذہانت کا یہ پہلا مستند ثبوت ہے۔
ویرونیکا کی اس غیر معمولی صلاحیت نے نہ صرف سوشل میڈیا صارفین کو حیران کیا ہے بلکہ سائنسدانوں کو بھی اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ گایوں اور دیگر مویشیوں کی ذہنی صلاحیتوں کو نئے زاویے سے دیکھیں۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت بن رہا ہے کہ فطرت میں ذہانت صرف انسانوں یا چند مخصوص جانوروں تک محدود نہیں۔