ایکسپریس نیوز کے مطابق بھیکھے وال کی کچی آباد میں ہونے والے شیر کے حملے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سخت نوٹس لیا جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پہنچے اور زخمی بچی کو اسپتال منتقل کردیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے پالتو شیرنی مالکان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا حکم دیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق وقوعہ بھیکے وال پنڈ میں پیش آیا، بلاول اور شجاعت پالتو شیرنی کو رکشہ سے اتار رہے تھے، اس دوران وہ بھاگ گئی۔
ترجمان کے مطابق شیرنی کے حملے سے بچی کی ٹانگ اور کان زخمی ہوا جبکہ ملزمان شیرنی لے کر فرار ہوگئے جنہیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔
بچی کی شناخت ماریہ کے نام سے ہوئی جس کی والدہ ماریہ نے بتایا کہ میری آٹھ سالہ بیٹی رابعہ گلی میں کھیل رہی تھی اور اس دوران لائٹ گئی ہوئی تھی کہ اسی دوران دو سے تین افراد ایک شیرنی کو لے کر وہاں پر آئے۔
والدہ کے مطابق شیرنی نے میری بچی پر حملہ کر دیا، میری بیٹی رابعہ کا کان شیرنی کے منہ میں تھا، شیرنی کے ساتھ افراد نے بڑی مشکل سے میری بچی کو شیرنی سے چھڑوایا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا تاہم وہ میرے شوہر خضر عباس کو اپنے ساتھ لے گئی۔ پولیس کا ہکنا ہے کہ اعظم کھوکھر کو حراست میں لے لیکر تفتیش کی جا رہی ہے۔