ایران کا بحران اور تودہ پارٹی

 ایران میں بادشاہت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کمیونسٹ پارٹی جو ’’ تودہ پارٹی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی نے کیا تھا۔ تودہ پارٹی 1941 میں قائم ہوئی۔ سلمان محسن اسکندری تودہ پارٹی کے پہلے سربراہ تھے۔ تودہ پارٹی مارکسزم اور لینن ازم کے اصولوں پر استوار ہوئی۔ تودہ پارٹی نے ایران کے کسانوں اور مزدوروں کو منظم کرنے پر ساری توجہ مبذول کی۔

تاریخ کے صفحات کا جائزہ لیا جائے تو کچھ منظرنامہ یہ بنتا ہے کہ 1880 میں ترکی کے ایک اخبار میں جو ایران میں بھی شائع ہوتا تھا، سوشلزم کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، یوں ایران میں سوشلزم کے بارے میں جانکاری شروع ہوئی۔ پھر کچھ اور اخبارات میں کارل مارکس کے نظریات اور ان کی شہرئہ آفاق کتاب داس کیپیٹال کا ذکر ہونے لگا۔

افغان نژاد دانشور جمال الدین اسد عابدی کو ایران میں سوشل ازم کا ابتدائی دانشور کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں ایران میں سوشل ازم کا نظریہ عام ہونا شروع ہوگیا تھا۔ تودہ پارٹی سوویت یونین سے براہِ راست متاثر تھی۔ تودہ پارٹی اپنے قیام کے بعد سے بادشاہ ہی نظام کے جبر کا شکار رہی۔ تودہ پارٹی کی پوری قیادت کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ روس کے مرد آہن جوزف اسٹالن امریکا اور برطانیہ کے وزیر اعظم چرچل کے درمیان ہٹلر کے فاشزم کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق ہوا تو ایران کی حکومت نے سیاسی پابندی ختم کردی اور سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا گیا۔

جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر رضا شاہ پہلوی نے اقتدار سنبھالا تو اب امریکا بادشاہ رضا شاہ پہلوی کا براہِ راست سرپرست ہوا۔ جب مصدق وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو انھوں نے تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ تودہ پارٹی نے مصدق کی اصلاحات کی حمایت کی مگر مصدق کی پالیسی میں کنفیوژن کی بناء پر امریکا اور برطانیہ کے خلاف مؤثر متحدہ محاذ قائم نہیں ہوسکا۔ امریکا نے ایک سازش کے ذریعے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹا۔ اس کے ساتھ تودہ پارٹی سمیت تمام جمہوری قوتوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا۔

تودہ پارٹی کی قیادت اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ تودہ پارٹی کے جو رہنما گرفتاریوں سے بچ گئے تھے، انھوں نے زیرِ زمین رہ کر شہنشاہ کے خلاف مزاحمت کو برقرار رکھا۔ تودہ پارٹی کے علاوہ بائیں بازو کی دیگر تنظیموں فدائین خلق اور مجاہدین خلق نے بھی رضا شاہ پہلوی کی آمریت کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس دوران آیت اللہ خمینی نے شاہ ایران کے خلاف جدوجہد کے لیے اپنے پیروکاروں کو منظم کیا۔ آیت اللہ خمینی شاہ ایران کی حکومت کے دباؤ پر مشہد چھوڑنے پر تیار ہوئے۔

وہ پہلے عراق چلے گئے مگر آیت اللہ خمینی کا عراق میں قیام مختصر رہا۔ انھوں نے عراق چھوڑ کر فرانس کے دارالحکومت پیرس کا رخ کیا جہاں وہ شہنشاہ ایران کی حکومت کے خاتمے تک مقیم رہے۔ آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے ایران میں شہنشاہ ایران کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ تودہ پارٹی نے آیت اللہ خمینی کے مشن کی مکمل حمایت کی۔ تودہ پارٹی کی قیادت کا یہ تصور تھا کہ آیت اللہ خمینی کے ساتھ مل کر شہنشاہ کے اقتدار کے خاتمے کا مقصد جلد حاصل ہوگا، یہی وجہ تھی کہ تودہ پارٹی واحد جماعت تھی جو آیت اللہ خمینی کے مشن کی آخری وقت تک حمایت میں جڑی رہی۔

 تودہ پارٹی کی قیادت کا یہ تجربہ تاریخ نے غلط ثابت کیا۔ جب ایران میں انقلابی حکومت مستحکم ہوئی تو انقلاب مخالف قوتوں کے خلاف 1983میں آپریشن شروع کیاگیا۔ تودہ پارٹی بھی اس کی لپیٹ میں آئی جو لوگ سزا سے بچ گئے، انھیں یورپی ممالک میں پناہ لینی پڑی۔ مگر تودہ پارٹی کے کارکن اب بھی جدوجہد میں مصروف ہیں، جب گزشتہ سال امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو، تودہ پارٹی نے بھی ایران کی خود مختاری کو بچانے کے لیے امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مخالفت کی تھی۔

ایران میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تودہ پارٹی کا مؤقف واضح ہے۔ تودہ پارٹی نے ایران کے موجودہ بحران پر اپنا بیانیہ ترتیب دے رکھا ہے۔
 

Similar Posts