اگر اس روایتی نظام سے مظلوم کو انصاف ملے تو غنیمت کبریٰ سے کم نہیں کیونکہ جن فیصلوں پر عدالتوں میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں بسااوقات ان کے فیصلے یہاں چند دنوں میں ہو جاتے ہیں مگر اکثر اوقات فیصلے سیاسی مداخلت، زور آوروں کے دبائو میں ظالم کے حق میں ہوتے ہیں۔ اگر انصاف کے نام پر کیا گیا فیصلہ مظلوم پر ظلم کا ہتھوڑا بن کر گرے تو پھر یہ نظام انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے اور عوام کا قانون پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ جب تنازعات کے فیصلے قانون کی بنیاد پر نہیں بلکہ اثر و رسوخ اور پیسے کی بنیاد پر ہو رہے ہیں تو وہ لوگ عدالت کی بجائے طاقتور سے رجوع کرنے لگتے ہیں، پیسے اور دبائو کے بل بوتے پر معاشرے کو جنگل کے قانون کی طرف لے جا کر نظام انصاف کو نظام ظلم میں بدل دیتا ہے۔
دوسری طرف اگر کوئی ظالم کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دے تو قانون واضح اور عدالتیں کھلی ہوتی ہیں، مگر اصل فیصلے پس پردہ ڈرائنگ رومز، تھانوں، دفتروں اور بعض اوقات فون کالز پر ہوتے ہیں، اور ریاستی قانون محض ایک رسمی پردہ بن کر رہ جاتا ہے۔ ظلم کے خاتمے، انصاف اور قانون کو بالادست بنانے کے لیے سنجیدگی سے نظام انصاف میں اصلاحات کرنا پڑیں گی۔ اگرچہ انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سب سے زیادہ تنقید نظام انصاف پر کی جاتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی ذمے دار ہے لیکن صرف نظام انصاف ہی کو ذمے دار ٹھہرانا ناانصافی ہے۔
اسی لیے انصاف کی فراہمی کے لیے صرف عدالتی اصلاحات کافی نہیں بلکہ پورا کریمنل جسٹس سسٹم بھرپور اصلاحات کا متقاضی ہے، ریاست پاکستان کو نظام انصاف کو شریعت مطہرہ کے مطابق، حصول انصاف کے لیے آسان اور قابل اعتماد بنانا ہوگا۔ شفافیت اور بلا امتیاز احتساب کے بغیر نظام عدل پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ممکن نہیں۔ عدلیہ، پولیس، انتظامیہ میں بنیادی اصلاحات اور سیاسی مداخلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی قانون بالا دست بن کر انصاف کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پراسیکیوشن سروس میں مانیٹرنگ و کارکردگی جانچنے کا نظام متعارف کر کے ناقص تفتیش پر پراسیکیوشن کو اعتراض اور اصلاح کا اختیار حاصل دینا ہوگا۔ ڈیجیٹل شواہد کو قانونی حیثیت دے کر مقدمات میں تاخیر کے خاتمے اور سزا کی شرح میں اضافہ کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عوام کو سستا، آسان اور بروقت انصاف مل سکے۔
گزشتہ دنوں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جو نظام انصاف کی عکاسی کرتے ہیں، دونوں واقعات سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ پہلا واقعہ ایک معزز جج کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کے نیچے 2 لڑکیوں کاکچل کر جاں بحق ہونے کا ہے، ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی جو یقینا خوش آئند ہے۔ اگرچہ یہ قتل خطا تھی مگر غیر متوقع طور پر بچیوں کے لواحقین نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو فوراً معاف کردیا اور چند دنوں میں معاملہ حل ہوگیا‘ بہت اچھی بات ہے کہ بچہ باعزت بری ہوگیا اور اس کا کیرئیر اس جرم کے اثرات سے محفوظ ہوا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ حادثہ ایک عام کم سن ڈرائیور سے ہوتا تو وہ اس برق رفتاری سے باعزت بری ہو کر گھر جاتا ؟
سڑک پر حادثات ہمیشہ غیر ارادی ہوتے ہیں، ڈرائیور کم عمر ہو یا عمر رسیدہ گھر سے کسی کو مارنے کے لیے نہیں نکلتا۔ مگر اگر غیر لائیسنس یافتہ کم عمر بچہ اور یا نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے حادثے کا باعث بن جائے تو بلا تفریق خاص و عام کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرہ اس قسم کے حادثات سے بچ سکے۔ عوام کے ساتھ بھی پولیس اور عدلیہ کا سلوک ایسا ہونا چاہیے۔ دوسرا واقعہ ایک ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری کی ایف آئی آر درج ہونے کا ہے۔ جس برق رفتاری سے ایف آئی آر درج ہوئی اور بعد میں اس کا اخراج ہوا‘ وہ پولیس ٹیم اور نظام انصاف کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
کیاعام عوام کی شکایت پر بھی ایف آئی آر اس برق رفتاری سے درج ہوتی اور پولیس روایتی تاخیری حربے استعمال کرنے سے گریز کرے گی؟ کیا غریب کے گھر کا صفایا کرنے، عمر بھر کی جمع پونجی، مال و متاع کی چوری یا بچے کے اغوا کی ایف آئی آر بھی اس برق رفتاری سے درج ہوگی؟ یا روزنامچہ کے پر فریب اندراج سے شروع ہونے والا ڈرامہ تھانے کے کئی چکروں کے بعد اس آرزو سے اختتام پذیر ہوگا کہ “کاش قانون کی نظر میں غریب کے مال و متاع اور اولاد کی حیثیت ارباب اختیار کی میز پر پڑے سیب اور واش روم میں پڑے ہینڈ واش کے برابر ہوتی۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ عدل و انصاف کے نظام سے مایوس ہو کر عوام اپنے مقدمات حشر کے میدان میں لگنے والی عدالت کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جو صاحب اختیار اور انصاف کی راہ میں رخنے ڈالنے والوں کے لیے دائمی تباہی اور بربادی کا ذریعہ بنے گا۔
آئین ِ پاکستان واضح طور پر شہریوں کو فوری، منصفانہ اور غیر جانبدار انصاف کی ضمانت دیتا ہے آرٹیکل 4 کے تحت ہر شہری کا حق کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو۔ آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا تحفظ (جس میں منصفانہ ٹرائل کا حق شامل ہے) مگر جب ایف آئی آر کے اندراج میں مہینے لگ جائیں، ضمانت سیاسی دبائو پر ملے یا نہ ملے اور عدالت میں کیس برسوں لٹکا رہے تو پھر یہ سب آرٹیکل 4، 9 اور 10-A کی صریحاً خلاف ورزی ہے مگر اس خلاف ورزی کا جواب ذمے داروں سے کون لے سکتا؟ وہ تو آئین و قانون سے بالا دست اور کسی کو جوابدہ نہیں۔ جب تک سیاسی مداخلت ختم، پولیس اور پراسیکیوشن آزاد، عدالتی احتساب اور انصاف کے پیمانے خاص و عام کے لیے ایک نہیں ہوں گے اور انصاف میں تاخیر کو قابل سزا جرم نہیں بنایا جاتا، تب تک کریمنل جوڈیشل سسٹم ظالم کا ساتھ دے کر انصاف کو یرغمال بنائے رکھے گا۔
بحیثیت عام پاکستانی اہل اختیار سے یہی درخواست کروں گا کہ ملک و قوم کو اس استحصالی نظام سے نجات دلائیں اور وہ حقیقی اسلامی نظام عدل نافذ کرکے خواص اور عوام کے لیے ایک معیار مقرر کریں تو عوام کبھی یہ آرزو نہیں کریں گے کہ کاش غریب کی جان اور مال و متاع کی حیثیت قانون اور اہل اختیار کے نظروں میں ان کی میزوں پر پڑے سیبوں اور واش رومز میں پڑے ہینڈ واش کے برابر ہوتی۔