جوابی حملوں کی پالیسی ختم، اب امریکی اور اسرائیلی اہداف پر مسلسل حملے ہوں گے: پاسدارانِ انقلاب کا اعلان

0 minutes, 0 seconds Read

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے تحت ’آپریشن وعدہ صدق 4‘ کی 39ویں لہر شروع کر دی گئی ہے جس میں خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان نمبر 32 میں کہا گیا کہ یہ کارروائی شہداءِ قوت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کی گئی، جن میں ایران کی مسلح افواج کے سابق چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل امیر موسوی بھی شامل ہیں۔

بیان کے مطابق اس حملے کو ’یا امیرالمومنین علیہ السلام‘ کے کوڈ نام کے تحت انجام دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کے دوران خلیج فارس کے علاقے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مختلف جدید میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان میں قدیر ملٹی وارہیڈ میزائل سسٹم، خرم شہر ملٹی وارہیڈ میزائل اور عماد میزائل شامل تھے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان ہتھیاروں کو خاص طور پر طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں خطے میں موجود مزاحمتی قوتوں کی کارروائیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ گروہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے اور وہاں گزشتہ گیارہ دنوں سے فضائی حملوں کے سائرن مسلسل بج رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو طویل عرصے تک پناہ گاہوں میں رہنا پڑ رہا ہے۔

ایرانی بیان کے مطابق 39ویں لہر گزشتہ حملے کے کچھ ہی دیر بعد شروع کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فوجی کارروائی تیزی کے ساتھ مسلسل جاری ہے۔

اسی دوران ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے صرف جوابی حملوں کی پالیسی ختم ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق اب حکمت عملی یہ ہے کہ مسلسل حملے کیے جائیں گے جب تک مخالف فریق کو مکمل سزا نہ مل جائے اور اسے اپنے اقدامات پر پچھتاوا نہ ہو۔

Similar Posts