طالبان کے کمانڈر مولوی امان الدین منصور(اے آئی جی کمانڈر) نے بدخشاں کے ضلع اشکاشم میں ایک اجتماع میں دعویٰ کیا کہ اگر انہیں اجازت دی جائے تو وہ تاجکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے کمانڈر مولوی امان الدین منصور نے بدخشاں کے ضلع اشکاشم میں ایک اجتماع میں دعویٰ کیا کہ اگر انہیں اجازت دی جائے تو وہ تاجکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے تاجکوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے اور روس کو یوکرین میں مداخلت کرنے کی وجہ سے رکاوٹ کے طور پر مسترد کیا۔
طالبان نے افغانستان میں خواتین کے واحد ریڈیواسٹیشن پر دھاوا بول کرنشریات بند کردیں
یہ دعویٰ طالبان کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے۔
طالبان کے کمانڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے ان کے عزائم اور خطے میں ان کی سرگرمیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
طالبان کا یہ موقف اس بات کا غماز ہے کہ ان کی حکومت جو کبھی عدم مداخلت کے اصولوں پر زور دیتی تھی، اب خود ہی اپنے پڑوسی ممالک کو براہ راست دھمکیاں دینے میں ملوث ہو چکی ہے۔
ٹرمپ افغانستان میں اسلحہ چھوڑنے اور طالبان پر غصے میں آپا کھو بیٹھے، خود سے باتیں کرنے لگے
ان کے کمانڈر کا یہ دعویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کی توسیع پسندانہ ذہنیت افغان سرحدوں سے باہر بھی پھیل چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے اس اعتماد کا منبع دوحہ معاہدہ ہے، جس میں انہوں نے عالمی سطح پر جوابدہی کے بغیر قانونی حیثیت حاصل کی۔
طالبان حکومت میں پاکستان پر دہشت گردی کے 600 حملے ہوئے ہیں، سلمان جاوید
اس معاہدے کے بعد طالبان نے اپنے جارحانہ عزائم میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف متنازعہ بیانات دے رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ان کے عزائم کی خطرناکی مزید واضح ہو رہی ہے۔
اگر طالبان اپنے ہی دھڑوں کو جنگ کی دھمکیاں دینے سے روکنے میں ناکام ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک ایسی حکومت پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے جو عالمی برادری کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہو۔
طالبان کی حکومت کا فوجی فتوحات پر زور دینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ حکومتی اصلاحات اور معاشی بحالی کے بجائے صرف طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں، جو کہ خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔