تفصیلات کے مطابق ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچنے والا پالیسی ریٹ 2سال کے اندر اندر 10 فیصد سے نیچے آ گیا۔
مالیاتی کمپنی ٹاپ لائن کے مطابق ایک ماہ کے ٹی بل یعنی حکومتی قرض کیلئے بولیوں پر شرحِ منافع 9.89 فیصد رہی جو پچھلی بار کے مقابلے میں 0.30 فیصد کم ہے۔ تین ماہ کے ٹی بل پر منافع کی شرح 9.89 فیصد رہی جس میں 0.25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
چھ ماہ کے ٹی بل پر شرح 9.94 فیصد رہی، یعنی یہاں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی واضح علامت ہے کہ مقامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے مستقبل کو زیادہ محفوظ اور بہتر سمجھ رہے ہیں۔
حکومت اور اسٹیٹ بینک نے گذشتہ چند برسوں میں سخت مالی اور معاشی نظم و ضبط اپنایا ہے۔شرحِ سود میں یہ کمی عوام کے لیے بھی سود مند ثابت ہو گی۔