وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں جن کی ہدایت پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈ پروگرام بحال کر دیا گیا ہے۔ صحت کارڈ پروگرام کے ذریعے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
انجینئر امیر مقام نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں بغیر کسی مطالبے کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں اس وقت پانچ دانش اسکولز پر کام جاری ہے، جبکہ لیپ ٹاپ اسکیم، تعلیمی اصلاحات اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی عملی پیشرفت ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور مذاکرات کے نتیجے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کر دیے گئے ہیں۔ تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دو اہم اجلاسوں میں شرکت نہیں کی۔
انجینئر امیر مقام نے عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ آئندہ اجلاس میں شریک ہو کر سنجیدہ مذاکرات کریں، کیونکہ اب تک ہونے والی پیشرفت توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی مشاورت اور تعاون سے ہی آزاد کشمیر کے مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔