پاکستان پر انڈر 19 ورلڈ کپ میں ’چالاکی‘ کا الزام، بھارت کے خلاف میچ سے پہلے جرمانے کا خدشہ

سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ کی جانب سے پاکستان کی انڈر 19 ٹیم پر الزام تراشیاں کی جانے لگیں۔ انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج مقابلے کے دوران جمعرات کو دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملی جب پاکستان نے میزبان ملک زمبابوے کے خلاف محض 129 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مبینہ طور پر (Slow Run Chase) یعنی آہستہ کھیل پیش کیا۔

ہرارے میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان فرحان یوسف نے پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد میزبان ٹیم زمبابوے کی بیٹنگ لائن اوپنر ناتھانیئل ہلابانگانا کی نصف سنچری کے باوجود 35.5 اوورز میں صرف 128 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ پاکستان نے جوابی بیٹنگ کرتے ہوئے 129 رنز کا ہدف صرف 2 وکٹوں پر پورا کیا تھا اور زمبابوے کو 8 وکٹ سے شکست دی تھی۔

تاہم اس میچ کے بعد پاکستان کی انڈر 19 ٹیم پر چالاکی کا الزامات عائد کیے گئے اور ساتھ ہی جرمانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جانے لگا۔

قومی ٹیم پر الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان نے زمبابوے کو سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد کی اور ٹورنامنٹ کے نیٹ رن ریٹ کے قوانین کی وجہ سے پاکستان نے اسکاٹ لینڈ کو مقابلے سے باہر کر دیا۔

بعدازاں یہ واضح ہوا کہ یہ ایک حساب شدہ حکمت عملی تھی جس کا مقصد ٹورنامنٹ کے ریاضیاتی فارمولے کے تحت فائدہ حاصل کرنا تھا۔

پاکستان نے ابتدائی طور پر 129 رنز کا ہدف تیزی سے مکمل کیا اور 14 ویں اوور تک 84 رنز بنائے۔

اس وقت اسکاٹ لینڈ بھی پاکستان کے ساتھ سپر سکس کے لیے کوالیفائی کر رہا تھا۔

لیکن بعد میں پاکستان نے رنز بنانے کی رفتار کم کر دی تاکہ چیس کے اختتام کا مارجن اور وقت کنٹرول کیا جا سکے۔

16 ویں اوور سے 25 ویں اوور تک، پاکستان نے صرف 27 رنز بنائے اور 50 گیندیں بغیر رنز کے کھیلیں۔

اس دوران 89 گیندوں تک کوئی چوکا یا چھکا نہیں آیا، حالانکہ مطلوبہ رن ریٹ مکمل کنٹرول میں تھا۔

پاکستان نے ٹارکٹ 26.2 اوورز میں مکمل کیا جس سے زمبابوے سپر سکس میں پہنچ گیا اور اسکالینڈ باہر ہو گیا۔

انڈر 19 ورلڈ کپ کا ایک خاص قانون یہ ہے کہ ٹیمیں گروپ مرحلے سے اپنی نیٹ رن ریٹ سپر سکس میں لے جا سکتی ہیں، لیکن یہ صرف اُن میچوں کے نیٹ رن ریٹ کے لیے ممکن ہے جس میں مخالف ٹیم بھی سپر سکس کے لیے کوالیفائی کر چکی ہو۔

اگر پاکستان نے ہدف 25.2 اوورز سے پہلے حاصل کر لیا ہوتا تو زمبابوے کے بجائے اسکالینڈ کوالیفائی کر جاتا اور پاکستان کا اسکالینڈ کے خلاف نیٹ رن ریٹ سپر سکس میں منتقل ہوجاتا۔

پاکستان نے اسکالینڈ کو 41 گیندیں بچا کر ہرا دیا تھا، لیکن زمبابوے کے خلاف جیت کا مارجن زیادہ بہتر تھا جس میں 142 گیندیں بچی تھیں۔

پاکستان نے 26.2 اوورز میں ہدف حاصل کیا، جس سے زمبابوے گروپ میں اسکالینڈ سے آگے کوالیفائی کر گیا اور پاکستان کا زیادہ نیٹ رن ریٹ زمبابوے سے سپر سکس میں منتقل ہوگیا۔

تاہم آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.11 کے مطابق، نیٹ رن ریٹ میں کسی بھی غیر مناسب مداخلت یا حکمت عملی سے ٹیم کے کپتان کو پابندی یا دیگر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے معاملے میں یہ ذمہ داری کپتان فرحان یوسف پر ہو سکتی ہے۔

آئی سی سی کے قانون کے مطابق ’آرٹیکل 2.11‘ انٹرنیشنل میچز میں غیر مناسب حکمت عملی یا ٹیکٹیکل وجوہات کی بنیاد پر نتائج میں مداخلت کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ نیٹ رن ریٹ یا بونس پوائنٹس میں غیر مناسب مداخلت پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔

اس میں کسی بھی کرپشن یا فراڈ کے معاملات شامل نہیں ہیں۔ کسی بھی ٹیم کا کپتان اس آرٹیکل کی خلاف ورزی پر سزا پا سکتا ہے۔

تاہم زمبابوے کے سابق کرکٹر اینڈی فلاور نے اس حوالے سے ای ایس پی این کرک انفو کو بتایا کہ پاکستان کی زمبابوے کے خلاف حکمت عملی قوانین کے دائرے میں تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان نے پہلے جیت کو یقینی بنایا اور پھر رفتار کم کی تاکہ زمبابوے کو سپر سکس میں پہنچایا جا سکے۔

آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Similar Posts