معروف اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور ان کی عقاب نگاہوں نے متعصبانہ رویے پر بھارتی اداکار سنی دیول کو بے نقاب کردیا۔
اپنی ایک فلم کی مارکیٹنگ کے دوران سنی دیول آپے سے باہر ہوگئے اور اپنی فلم بارڈر 2 کے ایک ڈائیلاگ کو حاضرین کے لیے پیش کرنے لگے۔
فوجی پس منظر کے ساتھ فلم بارڈر 2 کے اس ڈائیلاگ میں لاہور کا تذکرہ کیا گیا تھا اور جذباتی ہندوؤں کو اکسانے کی ناکام کوشش تھی۔
تاہم فلم کی پروموشن کے دوران جب یہ ڈائیلاگ سنی دیول نے اپنے روایتی بلند آہنگ لہجے میں دہرانا چاہا تو فلم کے ساز و سامان اور ایڈیٹنگ نہ ہونے سے وہ پھیکا رہا۔
سنی دیول نے جتنی بھی جان مارنے کی کوشش کی وہ ڈائیلاگ کو فلم کی طرح حاضرین کے سامنے پیش نہ کرسکے۔
انسٹاگرام پر جب یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو یاسر حسین کب یہ موقع ہاتھ سے جانے دینے والے تھے فوراً کمنٹ کے ساتھ اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں شییئر کیا کہ انکل کی تو اپنی آواز نہیں نکل رہی۔
یاسر حسین کی اس انسٹاگرام اسٹوری پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی زبردست ردعمل دیا اور بھارت فلم انڈسٹری کی منافقت کا اجاگر کیا۔
کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ میں اب فلمیں کم اور ہندوتوا کا نظریہ زیادہ پھیلایا جاتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ جب تخلیق کار بنجر ہوجائیں تو بیچنے کو صرف پروپیگنڈا بچتا ہے۔