ایران کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ میں استعمال کیے گئے میزائلوں کے مقابلے میں ایران نے اپنی میزائل صلاحیت اور طاقت کو مزید بہتر بنا لیا ہے، جبکہ میزائلوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے بعد ایران نے نہ صرف میزائلوں کی تکنیکی صلاحیت میں بہتری لائی ہے بلکہ ان کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ میزائل پاور گزشتہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور جدید ہے۔
بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک کا کہنا تھا کہ ایران نے موجودہ اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص صلاحیت کے حامل نئے میزائل تیار کر لیے ہیں، تاہم ان تیاریوں کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں دشمن کو صحیح وقت پر حیران کن اور فیصلہ کن جواب دیا جا سکے۔
انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی جانب سے ایران کو دی جانے والی بزدلانہ دھمکیاں درحقیقت اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ ایران کی دفاعی صلاحیت اور مضبوط میزائل پاور سے خوفزدہ ہے۔
ایرانی حکام اور دفاعی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں ہی امریکا کو 24 جون کو جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی دفاعی طاقت نے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے اور دشمن کو کھلی جارحیت سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔