امریکا کی متعدد ریاستیں ایک بڑے اور شدید برفانی طوفان کی زد میں ہیں جس کے باعث سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران سرد موسم سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں تین دن کے اندر سردی کی شدت کے باعث پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ریاست لوزیانا میں برفانی طوفان کے دوران دو اموات کی اطلاع دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکساس، اوکلاہوما اور دیگر کئی ریاستوں میں شدید برفباری ہو رہی ہے، جس سے سڑکیں بند اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔
کئی شہروں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑنے کے باعث ٹریفک نظام مفلوج ہو چکا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
برفانی طوفان کے باعث فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں 14 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی اڈوں کی بندش کے باعث منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس صورتحال نے لاکھوں مسافروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
شدید سردی اور طوفان کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے اور بجلی سے محروم صارفین کی تعداد نو لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
بجلی بحالی کے ادارے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں تاہم خراب موسم کے باعث بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس برفانی طوفان سے 40 ریاستوں میں 24 کروڑ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ صورتحال کے پیش نظر 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
واشنگٹن اور نیویارک سمیت کئی بڑے شہروں میں مزید شدید برفباری اور خون جماتی ٹھنڈ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔
امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق برفانی طوفان کے اثرات آئندہ ہفتے تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔