ایران: سپریم لیڈر کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلانے کا نیا ٹرینڈ وائرل

ایران بھر میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جن میں خواتین کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔

احتجاج بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ بند اور عالمی سطح پر فون لائنز منقطع کر دی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، میں مبینہ طور پر ایرانی خواتین کو سپریم لیڈر کی تصاویر جلا کر انہی سے سگریٹ جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں کئی افراد کو آگ کے گرد شور شرابا کرتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے کیپشن میں درج تھا کہ تہران میں آج رات خواتین اسکارف جلا رہی ہیں۔

ایرانی قانون کے تحت سپریم لیڈر کی تصاویر جلانا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ملک کے کئی حصوں میں خواتین کا سگریٹ پینا برسوں سے محدود یا حوصلہ شکنی کا شکار رہا ہے۔

یہ مناظر دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ ایران کی خواتین اس طرزِ احتجاج کے ذریعے کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

یہ احتجاج دسمبر کے اواخر میں شروع ہوا تھا جسے 1979 کے بعد ایران کا سب بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔

تہران میں ایک ڈاکٹر نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ملک کے صرف چھ اسپتالوں میں کم از کم 217 مظاہرین کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر ہلاکتیں براہِ راست گولی لگنے کے باعث ہوئیں۔

Similar Posts