امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ تم فائرنگ شروع نہ کرو، کیونکہ پھر ہم بھی فائرنگ شروع کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران بھر میں حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کرچکا ہے اور حکام نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حقوقِ انسانی کے اداروں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں مظاہرین کی ہلاکتوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ اسی دوران ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر جھڑپوں اور آگ لگنے کے مناظر بھی نشر کیے گئے، جبکہ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں کئی پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ تم فائرنگ شروع نہ کرو، کیونکہ پھر ہم بھی فائرنگ شروع کر دیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں بس یہ امید کرتا ہوں کہ ایران میں مظاہرین محفوظ رہیں، کیونکہ اس وقت وہاں کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔
صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنہوں نے ماضی کی طرح اپنے لوگوں کو مارنا شروع کیا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم اُنہیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔ اس کا مطلب فوجی موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم انہیں پوری شدت سے ماریں گے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں پسپائی سے انکار کرتے ہوئے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ بیرونِ ملک اپوزیشن گروہوں اور امریکہ کے ایما پر کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکی طاقتوں کے لیے سرگرم آلہ کاروں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران لاکھوں معزز شہریوں کی قربانیوں سے قائم ہوا ہے اور یہ نظام تخریب کاروں کے سامنے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اُدھر ایران کی وزارتِ اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ اِنٹرنیٹ سروس بند کرنے کا فیصلہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر متعلقہ سکیورٹی حکام نے کیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعے کو جاری ایک بیان میں کہا کہ غیر ملکی فوجی مداخلت کے امکانات بہت کم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمان کے وزیرِ خارجہ، جو ماضی میں ایران اور مغرب کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرتے رہے ہیں، ہفتے کو دورہ کریں گے۔
انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے باہر معلومات کی ترسیل میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور ملک میں فون کالز بھی نہیں کی جا سکتیں۔ دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم 17 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
ایرانی حقوق تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد اب تک کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔ جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق ان واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 217 ہو گئی ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔