ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے رکن اور دفاعی کمیٹی کے چیئرمین راسمُس جارلوف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو ڈنمارک کو اپنا دفاع کرنا پڑے گا، اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈنمارک کی فوج امریکہ کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تاہم ایسے کسی بھی حملے کو وہ ناقابلِ قبول قرار دیتے ہیں۔
بھارتی چینل کو انٹرویو میں راسمُس جارلوف نے کہا کہ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم پر فوجی حملہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، اور اس کے نتیجے میں دو نیٹو ممالک کے درمیان جنگ جیسی مضحکہ خیز اور تباہ کن صورتحال پیدا ہو جائے گی، جو مکمل طور پر بربادی کا باعث ہوگی اور نہایت احمقانہ اور غیر ضروری ہوگی۔
جارلوف کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ پر حملے کے لیے نہ کوئی خطرہ موجود ہے، نہ کوئی دشمنی اور نہ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایسا کرنے کا کوئی جواز ہے، کیونکہ امریکہ کو پہلے ہی گرین لینڈ تک رسائی حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت امریکہ کو وہاں کان کنی سمیت دیگر سرگرمیوں کی اجازت حاصل ہے۔
جارلوف نے کہا کہ اس سب کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ معاملات دوبارہ درست راستے پر آ جائیں گے اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہیں بڑھے گی۔
راسمُس جارلوف نے واضح کیا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور یہ محض قیمت کا معاملہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم 57 ہزار ڈنمارک کے شہریوں کو بیچ کر انہیں امریکی نہیں بنا سکتے۔
دوسری جانب، ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے مسلح کارروائی کی تو یہ 76 سال پرانے مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے سال 2019 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران گرین لینڈ خریدنے کی پیشکش کی تھی، تاہم انہیں یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا تھا کہ یہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد دوبارہ اقتدار سنبھالنے پر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کی پیشکش کو ایک بار پھر دہرایا تھا جسے ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا گیا۔