آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات 843 دن بعد غزہ سے برآمد

غزہ میں 843 دن گزرنے کے بعد آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی مل گئی ہیں۔ اسرائیلی پولیس حکام کے مطابق یہ باقیات ایک اسرائیلی پولیس سارجنٹ ران جویلی کی ہیں جو حماس کے سات اکتوبر 2023 کو ہونے حملے میں مارا گیا تھا۔ لاش غزہ کے ایک قبرستان سے برآمد ہوئی، جس کی شناخت دانتوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی۔

یہ پیش رفت اکتوبر 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کے درمیان زندہ اور فوت شدہ یرغمالیوں اور قیدیوں کی واپسی پر اتفاق ہوا تھا۔

حماس نے اس موقع پر کہا ہے کہ اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی واپسی جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا ثبوت ہے اور تنظیم اپنے وعدوں پر عمل کر رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ میں عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ اسرائیل کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

اسرائیلی فوجی کی باقیات کی واپسی کے بعد معاہدے کے تحت اسرائیل پندرہ فلسطینی قیدیوں کی لاشیں فلسطینی وزارت صحت کے حوالے کرے گا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اسرائیلی فوجی کی باقیات کی تلاش کو امریکی صدر کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں ناممکن کو ممکن کر کے دکھایا اور یہ پیش رفت امریکی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

Similar Posts