امریکا کی متعدد ریاستیں شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں، جہاں مختلف حادثات اور واقعات میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ خراب موسمی صورتحال کے باعث 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق واشنگٹن، نیویارک، ٹیکساس، اوکلاہوما، نیوجرسی سمیت کئی امریکی ریاستوں میں شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام کے مطابق 15 ریاستوں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑچکی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔
برفانی طوفان کے باعث فضائی نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا، خراب موسم کی وجہ سے 16 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ آٹھ لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس شدید موسم سے 24 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
نیویارک کو کئی برسوں بعد موسمِ سرما کے شدید ترین طوفان کا سامنا ہے۔ شہر اور گردونواح میں ہڈیوں کو جما دینے والی خطرناک سردی کی لہر جاری ہے، جبکہ نیویارک کے دیہی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 49 ڈگری تک گر گیا ہے۔
نیویارک کی گورنر نے عوام کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
حکام کے مطابق برفانی طوفان کے اثرات اگلے ہفتے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
شدید موسمی حالات کے پیش نظر واشنگٹن میں وفاقی دفاتر بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیویارک سٹی کے اسکولوں میں آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
امریکی حکام اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ ہیں اور شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ موسم سے متعلق ہدایات پر عمل کریں تاکہ جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔