غزہ امن بورڈ میں اہم مسلم ممالک سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا سمیت دیگر چھوٹے مسلمان ملکوں نے پاکستان کے فیصلے سے قبل ہی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کو یقین ہے کہ امن بورڈ میں اسرائیل بھی شامل ہے جو 70 ہزار فلسطینیوں کا قاتل ہے جس کی موجودگی میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر ہمارے وزیر اعظم مشاورت کر رہے ہوں گے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر جو پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر ملکی سیاست میں نمایاں ہوئے کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز امن بورڈ میں شمولیت کے باعث حماس کو غیر مسلح کرنے جائیں گی؟ بیرسٹر گوہر کو جس پارٹی کے بانی نے چیئرمین پی ٹی آئی مقرر کیا تھا ان پر مبینہ طور پر یہود نواز ہونے کا الزام ہے جس کا ثبوت یہ بھی دیا جاتا ہے کہ انھوں نے لندن کے میئر کے الیکشن میں ایک مسلمان صادق خان کے مقابلے میں اپنے سابق برادر نسبتی یہودی امیدوار کی حمایت کی تھی جن کی بہن کو انھوں نے طلاق دی تھی جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کا اپنے سابق برادر نسبتی سے رشتہ ختم ہو گیا تھا اور بانی کو یہودی امیدوار کی بجائے مسلمان صادق خان کی حمایت کرنی چاہیے تھی یا غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا مگر بانی نے ایسا نہ کرکے خود کو متنازعہ بنا لیا تھا جس سے ظاہر ہے کہ ان کی ہمدردی اپنی سابقہ اہلیہ جمائمہ کے یہودی بھائی کے ساتھ تھی اور بانی لندن میں مسلمان میئر کی بجائے یہودی میئر کی حمایت کر رہے تھے جس کے لیے انھوں نے اپنے حامیوں کو یہودی امیدوار کو ووٹ دینے کو کہا ہوگا۔ یہودی امیدوار کی حمایت کرنے والے بانی پر یہ بھی مبینہ الزام ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے مقابلے میں ظالم اسرائیل کی سخت مخالفت یا اس کے مظالم کی مذمت نہیں کرتے جتنی انھیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے کرنی چاہیے تھی۔
اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت کو امن معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کے لیے قومی اسمبلی میں یہ معاملہ لانا چاہیے تھا مگر حکومت نے اس اہم معاملے پر اپوزیشن سے مشاورت ضروری نہیں سمجھی اور نہ غزہ کے سلسلے میں امن بورڈ کے مقاصد اور شرائط پبلک کیں تاکہ قوم بھی حقائق جان سکتی۔ ایک حد تک اپوزیشن کا موقف درست بھی ہے مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں رہنے والی کسی بھی حکومت نے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات میں خود کو عقل کل سمجھا نہ کبھی اپوزیشن کو اکثر اعتماد میں لینا گوارا کیا۔
حکومتوں کا تو یہ حال رہا ہے کہ وہ معاملات اپوزیشن سے چھپاتی رہی ہیں اور پارلیمنٹ میں اہم مسائل پر بھی بحث نہیں کرائی جاتی بلکہ اپنی کابینہ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور حکومتیں اپنے مفاد کو دیکھ کر ہی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرتی ہیں۔ اپوزیشن جب کبھی اپنے مفاد کے لیے اے پی سی کرتی ہے تو وہ بھی اپنی مرضی کی حامی یا حکومت مخالفین کو مدعو کرتی ہیں اور حکومتی پارٹیوں کو مدعو ہی نہیں کیا جاتا جس کی تازہ مثال اپوزیشن کی حالیہ اے پی سی تھی۔ حکومت اپنی اے پی سی میں مجبور ہو کر تمام بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو مدعو تو کر لیتی ہے مگر اسے خوف ہوتا ہے کہ کہیں اپوزیشن اکثریت میں ہوکر حکومتی مقاصد کے حصول میں رکاوٹ نہ پیدا کر دے اور حکومت کو ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔
وزیر اعظم نواز شریف اپنی حکومت میں سعودی حکومت کی طرف سے یمن کے معاملے میں پاک فوج کی مدد کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرکے تجربہ حاصل کر چکے ہیں جب پارلیمنٹ نے حکومت کی خواہش کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس سے حکومت کو سعودی عرب کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات بھی متاثر ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی بھول گئی ہے کہ اس کے وزیر اعظم نے ذاتی مفاد کے لیے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی سمری اپنی کابینہ تک سے چھپائی تھی اور ان کے مشیر شہزاد اکبر نے بند لفافہ کابینہ میں لہرا کر وزیر اعظم کی مرضی کے فیصلے کی منظوری لی تھی جس پر بعض وزیروں نے اعتراض بھی کیا تھا۔
بدقسمتی سے ملک میں ہر خودساختہ جمہوری حکومت میں اپوزیشن کا کردار کبھی اصولی نہیں بلکہ منفی رہا ہے اور پیپلز پارٹی، (ن) لیگ، (ق) لیگ، پی ٹی آئی کی حکومتوں میں اپوزیشن کا بنیادی اصول حکومت کے اچھے کام کی بھی مخالفت رہا ہے مگر جب بھی ذاتی مفاد کا معاملہ آیا تو حکومت اور تمام اپوزیشن نے مل کر منظوری دی اور اتحاد صرف اس وقت ہوا جب حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کا بل پیش کیا تو کسی نے مخالفت نہیں کی بلکہ سب نے یک زبان ہو کر اس کی متفقہ منظوری دی۔ ایسا مفاداتی بل کبھی متعلقہ کمیٹی کو بھیجا گیا نہ اس پر بحث ہوئی بلکہ فوری طور پر منظور کر لیا گیا جس کی ہر صدر مملکت نے بھی فوری توثیق کی اور کسی نے نہیں سوچا کہ اس مالی مفاد کے معاملے سے قومی خزانے پر کتنا بڑا مالی بوجھ بڑھے گا۔
ہر دور کی اپوزیشن نے کبھی ملکی مفاد کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہر معاملے پر سیاست چمکائی۔ ہر دور میں جب بھی صدر مملکت پارلیمنٹ سے خطاب کرنے آیا کسی اپوزیشن نے صدر کو تقریرکرنے نہیں دی، شور مچایا اور احتجاج جاری رکھا۔ وزیر اعظم کی تقریر نہ سننا، ہنگامہ آرائی، ہر بجٹ اجلاس میں بجٹ دستاویز پڑھنے کی بجائے پھاڑ کر لہرانا، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ ہر دور میں اپوزیشن کی اولین ترجیح رہی ہے۔
ہر حکومت من مانی کی عادی اور ہنگامہ آرائی اپوزیشن کا اصول اور ارکان پارلیمنٹ کی اجلاسوں سے غیر حاضری میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان دونوں برابر کے شریک رہتے ہیں جس کی وجہ سے کورم کا اکثر مسئلہ درپیش رہتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اسپیکر اور چیئرمین اپوزیشن کو بولنے کا موقعہ نہیں دیتے۔