وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ انھیں تیراہ آپریشن کے لیے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وہاں نقل مکانی کے حوالے سے انھیں اور ان کی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وہ تیراہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں، وہ وہاں ہونے والے آپریشن کے خلاف ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ان کی مرضی کے بغیر آپریشن کر رہی ہیں۔
یہ سادہ موقف ہے جو مجھے سمجھ آیا ہے۔ ویسے تو انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھیں قتل کرنے کی سازش تیار ہو گئی ہے۔ مجھے یہ بات مضحکہ خیزلگتی ہے۔ انھیں قتل کرنے کی سازش کیوں تیار کی جائے گی۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تیرہ آپریشن پر ان پر بہت دباؤ ہے اور اب وہ ایسی باتیں کر کے اس دباؤ کو اپنے اوپر سے شفٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ موضوع کو اپنی جان کی طرف لیجانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ا ن کا موقف ہے کہ انھیں علم ہوا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔
گورنر راج کا آپشن آئین میں موجود ہے۔ لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ وہ محدود مدت کے لیے ہی لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد حکومت نے بحال ہونا ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ کے پی میں کوئی ایسا کرائسز پیدا ہوگا کہ محدود مدت کے لیے گورنر راج لگانے کے علاوہ وفاق کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ نہ سہیل آفریدی ایسا کوئی ماحول پیدا کر رہے ہیں اور نہ ہی میرے علم کے مطابق وفاق ابھی گورنر راج کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
جہاں تک میرا سیاسی تجزیہ ہے کہ کے پی میں گورنر راج تب تک نہیں لگایا جائے گا جب تک کے پی اور وفاق کے درمیان کوئی بڑا ڈیڈ لاک نہیں ہوجاتا۔ کے پی پر پاکستان کی رٹ پر سوالیہ نشان نہیں پیدا ہو جاتے۔ کوئی سنگین سیکیورٹی مسائل نہیں پیدا ہو جاتے۔ جنھیں گورنر راج کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا ہوگا۔ لیکن جب تک معاملات ہلکی پھلکی موسیقی کے ساتھ چل رہے ہیں، انھیں چلایا جائے گا۔ دونوں طرف سے موسیقی بھی جا رہی رہے گی۔ ہم موسیقی سن بھی رہے ہیں۔ وفاق بھی کے پی حکومت کے خلاف موسیقی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کے پی سے موسیقی کے علاوہ کوئی کام ہو ہی نہیں رہا۔ کبھی کبھی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سارے ماحول کو تڑکا لگا دیتی ہے۔ لیکن اس سب کے بعد بھی معاملات چل رہے ہیں۔ کوئی ڈیڈ لاک نہیں ۔ یہ بات سمجھنے کی ہے۔
جہاں تک سہیل آفریدی کی اس بات کا تعلق ہے کہ انھیں نا اہل کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ جیسے گورنر راج کا آپشن موجود ہے۔ لیکن نہیں بھی موجود ہے۔ ایسے بھی نااہل کا آپشن موجود ہے۔ لیکن مجھے ابھی اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مقدمات موجود ہیں، وہ چلتے بھی رہے ہیں لیکن مجھے فی الحال سہیل آفریدی کی نا اہلی نظر نہیں آرہا۔ کوئی بھی مقدمہ ابھی فیصلے کے قریب نہیں۔ بلکہ کسی بھی مقدمہ کا کوئی باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوا۔ اس لیے مجھے ایسا کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا۔ سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے یہ اچھی بات ہے، وہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ انھیں سیاسی شہید بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ایک بات کی سب کو سمجھ ہے کہ سہیل آفریدی کے بعد ایک اور سہیل آفریدی ہی آجائے گا۔ اس لیے جب تک سہیل آفریدی کے ساتھ کام چل سکتا ہے۔ چلانا چاہیے۔
اب تیراہ آپریشن کی بات کر لیتے ہیں۔ سہیل آفریدی کا سیاسی بیانیہ یہ ہے کہ تیرہ آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر ہو رہا ہے، انھیں یا ان کی حکومت کو کوئی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس ضمن میں سمجھتا ہوں حقائد بر عکس ہیں۔ سب سے پہلے تیراہ کے مشران اور تیراہ کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان کئی دن کے جرگہ کے بعد ایک معاہدہ ہوتاہے۔
اس معاہدہ پر تیراہ کے مشران اور ضلع خیبر کی ضلعی انتظامیہ کے افسران کے دستخط موجود ہیں۔ میرا سوال سادہ ہے کہ کیا سہیل آفریدی کے انتظامی افسران نے تیراہ کے مشران کے ساتھ معاہدہ ان سے پوچھے بغیر کر لیا۔ حکومت ایسے نہیں چلتی۔ یہ جرگہ بھی صوبائی حکومت کی منظوری سے ہوا تھا، وہ معاہدہ بھی صوبائی حکومت کی منظوری سے ہوا تھا۔ کسی ضلعی انتظامی افسر میں اتنی جرات نہیں کہ صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی کام کر لے۔ وزیر اعلیٰ اگلے دن اس کو ٹرانسفر کر سکتا ہے، او ایس ڈی کر سکتا ہے۔ اس لیے صوبائی انتظامیہ پر وزیر اعلیٰ کی مکمل رٹ موجود ہوتی ہے۔
بات صرف اتنی نہیں ہے۔ اس کے بعد 25دسمبر 2025کو کے پی صوبائی حکومت نے تیراہ سے عارضی نقل مکانی کے لیے لوگوں کی مدد کے لیے چار ارب روپے جاری کیے۔ اب جو لوگ حکومت سازی کو سمجھتے ہیں۔ پیسے جاری کرنے کا اختیار کابینہ اور وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔
جب آپ نے تیراہ میں عارضی نقل مکانی کے لیے پیسے جاری کر دیے اور ان جاری ہونے والے پیسوں میں سے دو ارب روپے لوگوں میں تقسیم بھی ہو چکے ہیں تو میں کیسے مان لوں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کی مرضی کے خلاف کچھ بھی ہو رہا ہے۔پیسے آپ جاری کر رہے ہیں، معاہدہ آپ کر رہے ہیں پھر آپ کی مرضی کہاں شامل نہیں۔ معاہدہ میں پیسے دینے کا طریقہ آپ نے طے کیا۔ لوگوں کو عارضی نقل مکانی کے لیے قائل آپ نے کیا۔ اب یہ موقف کہ معاہدہ زبردستی کروا لیا گیا، ایک مذاق سے کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب زبردستی کی جا رہی تھی آپ کہاں تھے۔ آپ تب کیوں نہیں بولے، آپ نے تب اسے کیوں نہیں رکوایا۔ آپ نے اپنی ضلعی انتظامیہ کو دستخط سے کیوں نہیں روکا۔ اس لیے اب اس موقف میں جان نہیں۔
مجھے اندازہ ہے کہ سہیل آفریدی کے لیے یہ کہنا کہ یہ آپریشن میری مرضی سے ہو رہا ہے، ایک سیاسی موت سے کم نہیں۔ انھیں خوف ہے کہ ان کا سوشل میڈیا ان کو کھا جائے گا۔ وہ بھی غدار بن جائیں گے۔ وہ ڈر رہے ہیں لیکن پکڑے گئے ہیں۔ اب بھاگنے کا راستہ نہیں۔ اس لیے وہ گفتگو کو اپنے قتل کی سازش کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اپنی نااہلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
گورنر راج کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ فوج کے خلاف گفتگو کر کے جعلی ہیرو بھی بننا چاہتے ہیں۔ شائد ان کا اندازہ تھا کہ اسٹریٹ موومنٹ میں تیراہ آپریشن سے وہ توجہ ہٹا لیں گے۔ وہ آپریشن میں مدد بھی کرتے ہیں اور اسٹریٹ موومنٹ بھی کرتے رہیں گے۔ گفتگو اسٹریٹ موومنٹ کی طرف ہی رہے گی۔ لیکن ان کی حکومت کی نا اہلی نے انھیں پھنسا دیا ہے۔ لوگوں کو بروقت ریلیف اور فنڈز مہیا کرنا ان کی ذمے داری تھی۔ انھوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وہاں بد انتظامی ہو گئی، شور مچ گیا۔ شائد اس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔