سانحہ گل پلازہ اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرنا ایم کیو ایم رہنماؤں کو بھاری پڑ گیا

شہر قائد میں سیاسی کشیدگی نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے سانحہ گل پلازہ اور پارٹی پر تنقید کو سختی سے رد کیا، جس کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال، اور اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

وزارت داخلہ نے فوری طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس بلا کر ان رہنماؤں سے حفاظتی اقدامات واپس لینے کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق، خالد مقبول صدیقی کے پاس ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار، جبکہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے پاس بھی ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی دباؤ اور تنقید کی سزا کے طور پر لیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم نے اس پر کل شام چار بجے پریس کانفرنس طلب کی ہے۔

Similar Posts