یہ لوگ معاشی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات میں اپنے معیار زندگی کی بہتری میں نئے معاشی امکانات کو پیدا کریں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ پڑھی لکھی مڈل کلاس ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ روزگار کے مواقع کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ایک مسئلہ نئی نسل کا ہے جو اپنے کندھوں پر ڈگری کا بوجھ لے کر اپنے لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے۔اول، تو اسے نئے روزگار کے مواقع نہیں مل رہے اور اگر کہیں ملتے ہیں تو اس میں تنخواہیں اس حد تک کم ہیں جو حکومت کی کم سے کم طے کردہ تنخواہ کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتیں۔ یہ صورتحال نئی نسل میں معاشی استحصال کی مختلف نوعیت کی شکلوں کو نمایاں کرتی ہے ۔
روزانہ کی بنیاد پر ہر والدین اور ہر گھر کی کہانی کا ایک ہی کردار ملتا ہے جو معاشی بدحالی کی تصویر پیش کرتا ہے یا معاشی مواقع کے نہ ہونے کی وجہ سے خود کو بوجھ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔اس نئی نسل کا رونا محض اپنی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کا رونا خود ان کے خاندان کا بھی ہے جس کی کفالت میں انھیں ایک بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرنا ہے ۔مگر وہ کیا کریں اور کہاں جائیں اس کا کوئی معاشی راستہ ان کو نہیں مل رہا ۔جتنی تعداد میں ہم سالانہ بنیاد پر گریجویٹ یا ماسٹرز ڈگری پیدا کر رہے ہیں اتنی تعداد میں سرکاری اور غیر سرکاری یعنی نجی شعبہ میں روزگار پیدا نہیں ہو رہے تو اس ناکامی کی ذمے داری کس پر ڈالی جائے گی اور کیونکر حکومت سمیت نجی شعبہ اپنی ناکامی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔
یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ نئی نسل کے جو پڑھے لکھے لوگ ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں ان کے سامنے جہاں روزگار کی تلاش ہے تو دوسری طرف ملکی سطح پر معاشی بدحالی کی وہ کیفیت بھی ہے جو انھیں نظر آتی ہے اور ان کے پاس باہر جانے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہماری نئی نسل کے پاس اس وقت ڈگری تو ہے مگر ان کے پاس وہ مہارتیں نہیں ہیں جو ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکے ۔اگر یہ منطق مان لی جائے تو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ بھی حکومتی تعلیمی پالیسی کی ناکامی ہے جہاں جدیدیت کی بنیاد پر تعلیم دینے کی بجائے ہم اسے روائتی تعلیم دے کر بے روزگاری کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔
ہمارے حکومتی معاشی ماہرین یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں یا اس اہم نقطہ کو جان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہیں کہ اوپر کی سطح کی معیشت کے مثبت اثرات اگر نچلی سطح پر عام لوگوں کی زندگی پر معاشی ترقی کے اثرات پیدا نہیں کرتے تو پھر اوپر کے بہتر معاشی اشاریے عام آدمی کا پیٹ نہیں بھرسکتے ۔اس طرز کی معاشی ترقی کے دعوے معاشی بدحالی سے دوچار افراد میں اور زیادہ منفی ردعمل پیدا کرتے ہیں ۔یہ حکومتی معاشی ماہرین اس نقطہ پر بھی غور نہیں کر رہے کہ لوگوں کی آمدنی اور اخراجات میں جو تفریق اور عدم توازن کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس کا پرسان حال کون ہوگا اور اس کی ذمے داری کس پر ڈالی جائے۔
یہ کہنا کہ اب حکومت کے پاس روزگار نہیں اور نئی نسل کو اب اپنے لیے خود روزگار پیدا کرنے ہیں یہ بھی خوش فہمی کی سیاست ہے ۔کیونکہ یہ بھی ممکن نہیں کہ سب لوگ کاروبار کریں یا سب کو خود روزگار تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات ہمیں کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ ملک میں نئی چھوٹی یا بڑی صنعتوں کو قائم کرنے میں کیونکر ناکام ہورہے ہیں یا کیونکر ملک میں غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری میں تسلسل کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے مگر اس پر کوئی سوچنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔
بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کی بڑی تعداد میں نئی نسل جس میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں اور وہ پڑھے لکھے بھی ہیں تسلسل کے ساتھ حکمرانوں کے دل و دماغ پر دستک دے رہے ہیں یا ان کے دروازے کھٹکھٹا کر دہائی دے رہے ہیں تو اس ملک کا طاقت ور طبقہ ان نئی نسل کی آوازوں کو سننے کے لیے تیار نہیں ۔بلکہ بڑا المیہ یہ ہے کہ نئی نسل کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے ان پر مختلف نوعیت کے الزامات کی بنیاد پر ان کی کردار کشی یا ان کی جہالت کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ایک طرف پڑھے لکھے افراد اور دوسری طرف آدھی سے زیادہ آبادی جو بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہے اس کے مسائل تو بہت پیچھے چلے گئے ہیں ۔ڈیجیٹل لائزیشن کی باتیں تو بہت ہو رہی ہیں مگر نہ تو بنیادی ڈیجیٹل لٹریسی یا مہارتوں پر توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی نئی نسل کی رسائی کو ڈیجیٹل لائزیشن تک آسان بنانے کی بجائے اور زیادہ مشکل بنایا جارہا ہے ۔
آپ حکومت کے تمام معاشی ماہرین کو ایک میز پر بٹھا کر ان سے کہیں کہ وہ اگلے پانچ برس کے معاشی ایجنڈے کی وہ تصویر پیش کریں جس سے نئی نسل ان معاشی منصوبوں سے عملی طور پر فائدہ اٹھا سکے۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا اور ان معاشی ماہرین کی ساری گفتگو کا محور کمزور اور محروم طبقات کے مقابلے میں طاقت ور اشرافیہ کے معاشی مفادات اہم ہونگے اور یہ ساری منصوبہ بندی ان ہی طاقت ور افراد کے گرد ہی گھومے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں کو نہ صرف معاشی حالات پر تحفظات ہیں بلکہ اس سیاسی سوچ کو بھی نئی نسل چیلنج کررہی ہے جہا ں وہ حکومت کی ترجیحات میں خود کو بہت پیچھے کھڑا دیکھتے ہیں۔
پاکستان کا اصل مسئلہ محض معیشت کی ترقی اور بحالی یا اس کی مضبوطی کا نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں معیشت کو سیاست سے علیحدہ ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔یہ سیاست ہی ہوتی ہے جو طے کرتی ہے کہ اس حکومتی نظام میں ان کی ترجیحات عام آدمی کے لیے کیا ہوں گی یا وہ صرف طاقت ور طبقات کی نمائندگی کریں گے ۔یعنی وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی اور کس طبقہ کا زیادہ حصہ ہوگا اور کیسے وسائل اور مواقع کی اس جنگ میں عام آدمی کا حصہ زیادہ کیا جاسکتا ہے ۔اگر حکومت کا نظام طاقت ور طبقات کے ساتھ کھڑا ہوگا تو پھر اس نظام میں عام اور کمزور افراد کا مقدمہ کو ن لڑے گا۔
یہ جو سیاسی اور معاشی جنگ ہے وہ بنیادی طور پر طاقت ور اور کمزور طبقات کے درمیان ہی ہوتی ہے اور اس جنگ میں کمزور طبقات کو ترجیحی بنیادوں پر فوقیت دی جاتی ہے ۔لیکن ہماری کہانی مختلف ہے اور گھر گھر میں یا نئی نسل کے ہر فرد کو یہ درس دیا جارہا ہے کہ اگر آپ طاقت ور نہیں ہیں یا وسائل نہیں رکھتے تو اس ملک کی معاشی ترقی اور مواقع میں آپ کا حصہ وہ نہیں ہوسکتا جو خود آپ دیکھنا چاہتے ہیں ۔اسی سوچ کی وجہ سے ملک میں طبقاتی بنیادوں پر سیاسی اور معاشی جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے اور اسی بنیاد پر ہمیں معاشرے میں مختلف نوعیت کی تقسیم کے پہلو بھی نمایاں نظر آتے ہیں ۔بنیادی نقطہ یہ ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں لوگوں بالخصوص نئی نسل کی معاشی حیثیت کو بہتر بنانے میں ناکام ہو رہی ہیں اور ان کو مختلف اقدامات کی بنیاد پر خیراتی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو ان کی عزت نفس کو متاثر کرتا ہے ۔
جب تک حکومت کا نظام اور معاشی ماہرین روائتی اور فرسودہ خیالات یا طبقاتی بنیاد کو مستحکم کرکے معاشی ایجنڈے کو ترتیب دیتے رہیں گے تو بڑی معاشی ترقی کے نئے امکانات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔لوگوں کو کیسے معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے یا نئے روز گار پیدا کرنے ہیں یہ عمل جب تک ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہوگا تو ہم کیسے لوگوں کو معاشی دلدل سے باہر نکال سکیں گے۔لیکن اگر حکمرانوں کی معاشی ترقی خود ان کی ذات اور خاندان تک محدود ہوگی تو پھر عام لوگوں میں ان کے بارے میں منفی رجحان کا پیدا ہونا فطری ہوتا ہے۔