صدر ٹرمپ کے ایڈوانچر

امریکی صدر ٹرمپ کو ’’شہنشاہ عالم پناہ‘‘ بننے کا جو خبط سوار ہے وہ کسی صورت ان کے ذہن سے نہیں نکلتا۔ غزہ میں ان کی مداخلت بے جا اور وینزویلا میں ان کی کامیاب مداخلت نے ان کی ہمت و جرأت کو مہمیز دی ہے اور اب وہ ایسے حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں جس کا حکم دنیا کے بڑے حصے پر چلے گا اور وہ بلا شرکت غیرے دنیا کے بڑے حصے اور ان کے اپنے خیال کے مطابق پوری دنیا کے حکمران اعلیٰ قرار پائیں گے۔ عالمی تاریخ کے وہ ایسے حکمران بننا چاہتے ہیں جو اس سے پہلے نہ صرف کوئی حکمران ہو سکا بلکہ کسی نے اتنی ’’ عظیم سلطنت‘‘ کا خواب بھی نہ دیکھا ہوگا۔

گرین لینڈ ان کی بندوق کی شست پر ہے ۔ ایران پر وہ نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ پچھلے دنوں تو انھوں نے ایران کو واضح دھمکی دی تھی کہ امریکا ایران پر حملہ کرنے والا ہے اور جنگی تیاریاں بھی شروع کر دی تھیں مگر ایران کی اس دھمکی کے بعد اگر ایران پر امریکا نے حملہ کیا تو ایران اپنے ارد گرد تمام امریکی اڈوں کو تباہ کر دے گا، اس دھمکی نے کام دکھایا اور امریکی حکومت کا بیان آیا کہ ایران پر حملہ فی الوقت ملتوی کیا جا رہا ہے مگر تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ چین میں متعین امریکی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو گیا ہے اور امریکا کی طرف سے ایک بار پھر یہ بات دہرائی گئی ہے۔

 ایران پر حملہ خارج از امکان نہیں۔ گویا ایران کے سر پر امریکی حملے کا بھوت بدستور سایہ فگن ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ امریکا جن ممالک پر طبع آزمائی کر رہا ہے وہ ’’چہ پدی چہ پدی کا شوربہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں امریکا نے ابھی تک کسی ہم پلہ سے زور آزمائی کی جرأت نہیں کی ہے اور اس کی ہم پلہ طاقتیں بھی اسے پالے میں گھسیٹ رہی ہیں۔ کبڈی کے کھیل میں دشمن کو چت کرنے کے لیے اسے اپنے علاقے میں داخل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، اسے پالا دینا کہا جاتا ہے جب کھلاڑی دشمن کے علاقے میں کافی اندر داخل ہو جاتا ہے تو پھر ہر طرف سے اسے گھیر کر قابو کر لیا جاتا ہے۔ کیا خبر امریکا کی ہم پلہ طاقتوں کی اسٹریٹجی یہی ہو۔ اس کا اندازہ ابھی کرنا قبل از وقت ہے۔

ایران کا تو اللہ حافظ ہے لیکن ایران پر امریکی قبضے کی صورت میں امریکا کا جنگی جن بوتل سے باہر آ جائے گا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک ہی نہیں پاکستان افغانستان اور ہو سکتا ہے ہندوستان بھی اس کی زد میں آ جائے۔

فی الوقت تو گرین لینڈ کی شامت آئی ہوئی ہے، امریکا نے گرین لینڈ پر اپنی حاکمیت کا جو دعویٰ کیا ہے، اس نے یورپی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فرانس کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچ گئے ہیں۔ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان جو مفاہمتی بات چیت جاری تھی وہ ناکام ہو گئی ہے اور فرانس اور جرمنی نے اپنی مزید افواج گرین لینڈ روانہ کر دی ہیں۔ روس نے ایک مفاہمانہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی صورت حال اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اس لیے متعلقہ حکومتوں کو مفاہمانہ انداز اختیار کرکے امن کے راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔ مگر روس کے اس مفاہمانہ انداز کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی فوجی حلقوں نے خیال ظاہر کیا یورپی ممالک کی فوج کے گرین لینڈ آنے سے امریکی موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ بدستور اپنے موقف پر اڑا رہے گا۔

امریکی آمریت کا دوسرا شکار وینزویلا میں صورت حال بڑی دلچسپ ہو گئی ہے۔ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماچادو کو امن کا نوبل انعام ملا تھا۔ اب ماچادو نے اپنا یہ انعام صدر ٹرمپ کی نذر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس انعام کو قبول کرنے سے معذرت کی تھی مگر ماچادو کے ’’ بے حد‘‘ اصرار پر بالآخر انھوں نے اسے قبول کر لیا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی اس طور پر ہوئی کہ وہاں کے قانونی صدر کو رات کے اندھیرے میں اس کی خواب گاہ سے اغوا کیا گیا اور ان کی بیگم کو بے گناہی کے گناہ میں ساتھ ہی گرفتار کرکے امریکی بحریہ کے جہاز پر منتقل کر دیا گیا جہاں سے انھیں نیویارک لے جایا گیا جہاں اب ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔

ان کی اس گرفتاری کے باعث صدر کی خالی نشست کو پُر کرنے کا سوال پیدا ہوا تو قانون کے مطابق اپوزیشن رہنما ماچادو کا نام زیر بحث آیا مگر مقتدر حلقوں کا خیال تھا کہ ماچادو صدر کے عہدے کو مناسب طور پر نبھانے کے قابل نہیں ہو سکتیں اور یہ رائے وینزویلا اور امریکی حلقوں میں گردش کرنے لگی۔ عام خیال یہ ہے کہ ماچادو نے جو فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا نوبل انعام صدر ٹرمپ کے نام کیا ہے تو کیا ان کی اس محبت کا جواب صدر کی طرف سے ان کو نوازنے کے طور پر انھی کو وینزویلا کے صدر کے عہدے پر فائز کرانے کا باعث نہ بنے گا۔ادھر وینزویلا میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ نوبل انعام جیسے اعلیٰ و ارفع انعام کی اس طرح منتقلی انعام کی بے توقیری کا سبب نہ بن جائے اور آیا اس طرح کی منتقلی ممکن بھی ہے یا نہیں۔

لیکن دنیا بھر کے روشن دماغ لوگ اس صورت حال کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اگرچہ واضح الفاظ میں اس کا اظہار نہیں کیا جا رہا لیکن اسے ماچادو کی طرف سے صدر ٹرمپ کے لیے رشوت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر یہ بھی ممکن ہے کہ ماچادو صدر کے اہل قرار دے دی جائیں اور وینزویلا کی باگ ڈور فی الوقت ان کے ہاتھ میں دے دی جائے۔

Similar Posts