جواب میں اعتراف کیا گیا کہ دکانوں کے ٹائٹل کی دستاویزات کا ریکارڈ جمع نہیں کرایا گیا جبکہ دکانداروں سے ماہانہ بنیاد پر مینٹیننس کے نام پر 1500 روپے جمع کرنے کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ سوالنامے میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ایسوسی ایشن کسی سرکاری ادارے میں رجسٹرڈ نہیں تھی اور عمارت کے دروازے صدر کی ہدایت پر بند رکھے جاتے تھے۔
جواب میں تنویر پاستا نے سانحے میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات کو قرار دیا۔ ان کے مطابق فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی 10 بج کر 55 منٹ پر پہنچی جبکہ بیس منٹ کے اندر فائر ٹینڈر میں پانی ختم ہوگیا تھا۔ مزید دو ٹینڈر ساڑھے گیارہ بجے پہنچے لیکن اس وقت تک آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل چکی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس مناسب آلات، ماسک اور حفاظتی سامان موجود نہیں تھا اور ابتدائی گھنٹوں میں وہ عمارت میں داخل ہو کر پھنسے افراد کو نکالنے کے قابل نہیں تھے۔ ان کے مطابق فائر فائٹرز کے پاس فوم یا کیمیکل بھی دستیاب نہیں تھا۔
بیان کے مطابق مارکیٹ انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نجی ٹینکرز کا انتظام کیا جبکہ واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز فجر کے بعد فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ریسکیو کارروائیاں سست رہیں اور امدادی سرگرمیاں فجر کے بعد متحرک ہوئیں، اس وقت تک آگ شدت اختیار کر چکی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ عمارت میں پھنسے افراد کی لوکیشن ملنے پر کچھ لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نکالا گیا تاہم مناسب ریسکیو سہولیات نہ ہونے کے باعث کئی افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔
تنویر پاستا کے مطابق سانحے کے وقت گل پلازہ میں تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد موجود تھے جن میں سے بیشتر کو باہر نکال لیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمارت کے تمام 16 راستے کھلے تھے اور ہزاروں افراد انہی راستوں سے باہر نکلے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معائنے کے دوران دوسری منزل پر ایک شٹر بند پایا گیا تاہم اس میں تالہ نہیں تھا اور ممکنہ طور پر آگ کی شدت سے اسپرنگ متاثر ہونے کے باعث شٹر بند ہوا۔
جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں مصنوعی پھول، کھلونے، گارمنٹس، اسپرے اور دیگر آتش گیر سامان موجود تھا جبکہ عمارت کی چھت پر سات ڈیزل جنریٹر تھے جن میں سے پانچ فعال تھے۔
ان کے مطابق جاں بحق 72 افراد میں سے 51 افراد مارکیٹ سے وابستہ تھے۔